الظہران میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے اپنے شہریوں کے لیے غیر معمولی اور فوری نوعیت کی ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ Embassy of the United States, Riyadh کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ الظهران اور اس کے گردونواح میں ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث تمام امریکی شہری انتہائی احتیاط برتیں اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
بیان میں واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ شہری سفارتخانے یا قونصل خانے کا رخ نہ کریں بلکہ فوری طور پر اپنی رہائش گاہوں یا محفوظ مقامات کے سب سے نچلے فلور پر منتقل ہو جائیں، کیونکہ عمارت کا نچلا حصہ ممکنہ دھماکے کی صورت میں نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
سفارتی مشن نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ کھڑکیوں، شیشوں اور بیرونی دیواروں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی دھماکے یا شاک ویو کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ مزید برآں، شہریوں کو اپنے ذاتی ہنگامی منصوبوں کا ازسرِنو جائزہ لینے، ضروری سامان جیسے پانی، ابتدائی طبی امداد، موبائل چارجنگ ذرائع اور شناختی دستاویزات کو ہمہ وقت تیار رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سفارتخانے کے مطابق U.S. Consulate General Dhahran کا عملہ بھی احتیاطی اقدامات کے تحت حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکا ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات محض احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
دفاعی اور سفارتی مبصرین کے مطابق حالیہ ایڈوائزری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں سکیورٹی خدشات سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔ موجودہ حالات میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں، افواہوں سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
