مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے پہلی مرتبہ ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض تہران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے سفارتی حل کا حامی ہے، تاہم اگر سعودی سرزمین یا اس کے اہم تیل و توانائی کے مراکز پر حملے جاری رہے تو مملکت اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے اب تک ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکی فوجی موجودگی ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کیے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب نے سفارتی سطح پر محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاض اپنے سفیر کے ذریعے تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
تاہم اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے باوجود سعودی عرب اور ایران دونوں کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور عالمی سیاست پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔
