ریاض:سعودی عرب کی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی دفاعی افواج نے مملکت کے مشرقی علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی مملکت کے اہم علاقوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کی گئی۔
سعودی دفاعی حکام کے مطابق اس سے قبل صوبہ الخرج کے مشرقی علاقے میں دو ڈرونز کو مار گرایا گیا تھا، جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں سعودی افواج نے مزید کارروائی کرتے ہوئے ربع الخالی کے علاقے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کی جانب بڑھنے والے نو ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا۔
وزارت دفاع کے مطابق اس کے بعد بھی سکیورٹی آپریشن جاری رکھا گیا اور شیبہ فیلڈ کو نشانہ بنانے والے مزید سات ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز ایران کی جانب سے بھیجے گئے تھے اور ان کا مقصد سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
شیبہ آئل فیلڈ سعودی عرب کے اہم تیل کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ربع الخالی کے وسیع صحرا میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے اس واقعے کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کے مسلسل حملے نہ صرف مملکت بلکہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اور متعدد عرب، اسلامی اور دوست ممالک کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سعودی عرب کو اپنی سکیورٹی، خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کیلئے ہر ضروری اقدام کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور مملکت اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاتی رہے گی۔
