فیصل بن فرحان آل سعود، وزیر خارجہ سعودی عرب نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کا صبر ’لامحدود نہیں‘ اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، یہ بیان ریاض میں ہونے والے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد دیا گیا، جہاں خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت اور اس کے اتحادی مکمل دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب تک جو صبر کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل حملوں کے تناظر میں تمام آپشنز زیر غور ہیں، جن میں عسکری ردعمل بھی شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دو ہزار تئیس میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد تہران کے ساتھ جو محدود اعتماد قائم ہوا تھا، وہ حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو تعلقات کی بحالی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔سعودی وزیر خارجہ کے مطابق، اٹھائیس فروری کے بعد سے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران ان حملوں کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتا ہے، تاہم سعودی عرب نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایران نے اسرائیل پر جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کا الزام عائد کیا اور خلیجی خطے میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا۔ اسی روز سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں تیل و گیس تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق، دارالحکومت ریاض میں متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا، تاہم ان کا ملبہ شہر کے جنوبی علاقوں میں گرا اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ ان حملوں میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں،شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک اقدام ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا امریکی موجودگی کو جواز بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان حملوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی اور جان بوجھ کر خطے میں کشیدگی کو بڑھایا گیا۔ ان کے مطابق، اجلاس میں شریک تمام اسلامی ممالک نے ایران کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ایک جانب سفارتی حل کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب ہمسایہ ممالک پر حملے کر رہا ہے، جو اس کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کیونکہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی آپشنز دستیاب ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاض کو اس وقت نشانہ بنانا جب وہاں اسلامی اور خلیجی ممالک کے سفارتکار موجود تھے، محض اتفاق نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے پیچھے واضح پیغام دینے کی کوشش کارفرما تھی۔
سعودی حکام کے مطابق، اب تک دفاعی نظام نے سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں بیلسٹک و کروز میزائل تباہ کیے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک بھی مسلسل دفاعی کارروائیاں کر رہے ہیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سکیورٹی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
