اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے حالیہ اجلاس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایک ایسی قرارداد منظور کی جس میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے انسانی پہلوؤں اور ان کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں نہ صرف ان کارروائیوں کی مذمت کی گئی بلکہ انہیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں بھی شامل کیا گیا۔
سعودی عرب نے اس قرارداد کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کی عکاسی قرار دیا۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق، انسانی حقوق کونسل کے اکسٹھویں اجلاس میں ہونے والا یہ اتفاقِ رائے اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا ایران کے اقدامات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور انہیں قابلِ قبول نہیں سمجھتی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قرارداد دراصل ان تمام ممالک کے لیے ایک مشترکہ موقف کی نمائندگی کرتی ہے جو خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے اپنی وضاحت میں مزید کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے نہ صرف غیر ضروری اور بلا جواز تھے بلکہ انہوں نے خطے کے کئی ممالک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کو براہِ راست متاثر کیا۔ ان ممالک میں سعودی عرب کے علاوہ بحرین، کویت، سلطنتِ عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں، جنہیں ان کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی حکام نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی ریاست کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے اور اس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بیان میں اس پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ یہ عالمی قوانین اور معاہدات کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔ سعودی عرب نے اس بات کو دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کی سرزمین یا شہریوں کو نشانہ بنائے، خصوصاً جب وہ ممالک براہِ راست تنازع کا حصہ نہ ہوں۔
مزید برآں، وزارتِ خارجہ نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی کہ غیر فریق ممالک کو نشانہ بنانا ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف کشیدگی کو بڑھاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر عدم تحفظ کے احساس کو بھی تقویت دیتا ہے۔ سعودی عرب نے اسے کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور عالمی برادری کو اس کے خلاف متحد ہو کر مؤثر ردعمل دینا چاہیے۔
سعودی موقف کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس قرارداد کی منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے معاملے پر متفق ہیں۔ یہ قرارداد نہ صرف ایران کے اقدامات کی مذمت ہے بلکہ اس بات کا اعادہ بھی ہے کہ عالمی نظام قانون اور اصولوں کی بنیاد پر چلنا چاہیے۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کام کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی اس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
آخر میں، سعودی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور انسانی حقوق کا تحفظ ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف متاثرہ ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالیہ اقدامات کے خلاف عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے، اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد اسی اجتماعی تشویش کی عکاس ہے۔
