سعودی شہر جدہ میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور یوکرین جنگ کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، دفاعی تعاون اور عالمی امن کے حوالے سے اہم امور زیرِ بحث آئے۔ یوکرینی صدر کا یہ دورہ غیر متوقع تھا، مگر اسے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات سے قبل زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ انہوں نے سعودی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین ان ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے جو خطے میں سکیورٹی اور استحکام چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں سکیورٹی تعاون، خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے میں ممکنہ معاہدوں پر بھی غور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین نے خلیجی ممالک کو اپنے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی ہے، خاص طور پر روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایرانی ساختہ “شاہد ڈرونز” کے خلاف مؤثر دفاع کے حوالے سے۔
یوکرین کا مؤقف ہے کہ اس نے جنگ کے دوران ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید اور کم لاگت ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس میں ڈرون انٹرسیپٹرز، الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز شامل ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 200 سے زائد یوکرینی اینٹی ڈرون ماہرین مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مزید برآں، یوکرین نے ایک اہم تجویز بھی پیش کی ہے جس کے تحت وہ اپنے سستے اور مؤثر انٹرسیپٹر سسٹمز کے بدلے خلیجی ممالک سے جدید اور مہنگے فضائی دفاعی میزائل حاصل کرنا چاہتا ہے، تاکہ روس کی جانب سے ہونے والے میزائل حملوں کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس سعودی عرب نے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا کے حکام اور یوکرین و روس کے نمائندوں کی میزبانی کی تھی، جس کا مقصد 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف سعودی عرب اور یوکرین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک اب عالمی سکیورٹی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
