امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے سعودی عرب سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی اپیل کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کیلئے ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں توسیع سے نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ہم نے ابراہیمی معاہدہ کیا اور یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی جلد اس میں شامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اہم علاقائی طاقتیں اس معاہدے کا حصہ بنیں تو مشرقِ وسطیٰ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے اور خطہ ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ دنیا کے دیگر خطے بھی اس معاہدے کو تسلیم کریں اور اس کا حصہ بنیں، تاکہ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی اور تعاون میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق ابراہیمی معاہدہ مختلف ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے، باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور اقتصادی روابط کو مستحکم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت اس معاہدے کو مزید اہمیت دے سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی اور سیاسی طاقت ہے۔ اس کی شمولیت سے نہ صرف دیگر ممالک کو بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی بلکہ علاقائی توازن اور استحکام کو بھی تقویت حاصل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ مزید وسعت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات توانائی، تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری سمیت کئی شعبوں پر مرتب ہوں گے، جس سے خطے کی مجموعی معیشت میں بہتری آئے گی۔
مجموعی طور پر امریکی صدر کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سفارتی و معاشی اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، جبکہ ابراہیمی معاہدہ اس حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے
