ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے متنازع بیانات نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر نے میامی میں ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کو اندازہ نہیں تھا کہ انہیں ان کی تعریف کرنی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد یہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ بھی دیگر امریکی صدور کی طرح کمزور ثابت ہوں گے، تاہم اب انہیں ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ سعودی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کے ساتھ تعلقات میں احترام ضروری ہے، اور یہ رویہ اختیار کرنا ہی ہوگا۔
ان بیانات کے بعد دنیا بھر میں سیاسی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی رہنماؤں کے درمیان اس نوعیت کی زبان کا استعمال بین الاقوامی تعلقات میں تناؤ کو بڑھا سکتا ہے اور خطے میں سیاسی فضا کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
