سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور برطانوی وزیر دفاع جون ہیلی کے درمیان ایک تفصیلی ملاقات منعقد ہوئی۔ یہ ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک کڑی تھی بلکہ اس میں خطے اور عالمی سطح پر درپیش سکیورٹی چیلنجز پر بھی گہری گفتگو کی گئی۔
اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان دفاعی شعبے میں موجود شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ موجودہ تعاون کو کس طرح جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے تاکہ دونوں ممالک نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے مختلف امکانات اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ملاقات میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال زیرِ بحث رہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر غور کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کس طرح عالمی امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں باہمی تعاون اور رابطے کو مزید بڑھانا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اس ضمن میں انہوں نے نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
گفتگو کے دوران اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ عالمی سیاست میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں کس طرح دفاعی پالیسیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ دونوں وزرائے دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حالات میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ نہ صرف خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے بلکہ ایک مستحکم اور محفوظ عالمی ماحول کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے اس ملاقات کے بعد سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں اس بات کی نشاندہی کی کہ سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر ردعمل ضروری ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ایسے اقدامات کے تدارک کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس ملاقات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ کس طرح دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تربیتی پروگرامز میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی ملاقاتیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور مشترکہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، یہ بھی زیرِ غور آیا کہ خطے میں جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا زیادہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات نہ صرف ماضی میں مضبوط رہے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی مزید گہرے اور وسیع ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور مسلسل رابطہ ہی وہ عناصر ہیں جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر ایک مضبوط شراکت دار بناتے ہیں۔
اس طرح یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے خطے اور دنیا میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے مشترکہ سوچ اور حکمت عملی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
