سعودی عرب نے ایک تاریخی لمحے میں اسلامی ورثے کے اہم دستاویزات کی حفاظت اور عالمی ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتے ہوئے چوتھی صدی ہجری کے ایک نادر قرآنی مخطوطے کی رونمائی کی ہے، جس کا عنوان "غریب القرآن” ہے۔ اس مخطوطے کے مصنف ابو عبیدہ معمر بن المثنیٰ التیمی البصری ہیں، جو اپنے زمانے کے ممتاز عالم اور قرآنی علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
ریاض میں شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے اس قدیم مخطوطے کی تیاری کی تاریخ 209 ہجری بتائی ہے۔ یہ مخطوطہ 23 پارچوں پر مشتمل ہے جو پتلے چمڑے پر لکھے گئے ہیں اور ان کا سائز 1722 سینٹی میٹر ہے۔ اس نایاب کتاب کو لکھے ہوئے ایک ہزار سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ علومِ قرآن پر مبنی یہ کتاب غیر مطبوعہ ہے اور اس میں مواد اندلسی خط میں انتہائی واضح اور روشن انداز میں تحریر کیا گیا ہے، جبکہ سورتوں کے نام خطِ کوفی میں درج ہیں۔
ابو عبیدہ معمر بن المثنیٰ کی تصانیف کی تعداد 200 سے زائد بیان کی جاتی ہے، اور معروف عالم جاحظ نے ان کے متعلق کہا تھا کہ "روئے زمین پر ان سے بڑھ کر تمام علوم کا جاننے والا کوئی نہ تھا”۔ ابو عبیدہ کی مشہور کتابوں میں "مجاز القرآن”، "نقائضِ جریر و فرزدق”، "مآثر العرب”، "العققة والبررة”، "ایام العرب”، "معانی القرآن”، "طبقات الشعراء” اور "اعراب القرآن” شامل ہیں، جو علومِ قرآن اور عربی ادب کے حوالے سے آج بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔
شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے متنوع ذخائر میں قرآن کریم کی تفسیر اور علومِ قرآن پر قدیم اور نادر کتب کا ایک جامع مجموعہ موجود ہے۔ اس مجموعے میں ابو اسحاق بن سہل الزجاج کی کتاب "اعراب القرآن ومعانیہ” شامل ہے، جس کا نسخہ پانچویں صدی ہجری میں تیار ہوا۔ اسی طرح ابن قتیبہ دینوری کی تصنیف "تاویل مشکل القرآن” بھی ساتویں صدی ہجری میں نقل شدہ نسخے کے طور پر محفوظ ہے۔
لائبریری میں امام ابو جعفر طبری کی مشہور تفسیر "جامع البیان فی تفسیر القرآن” کے کچھ حصے بھی محفوظ ہیں، جو چھٹی صدی ہجری میں نقل کیے گئے اور 77 پارچوں پر مشتمل ہیں۔ مزید برآں، ابو بکر محمد النقاش کی کتاب "فی معانی القرآن الكريم وتفسيرہ” بھی لائبریری کے قیمتی ذخائر میں شامل ہے، جو ساتویں صدی ہجری میں نقل کی گئی اور اس کے صفحات کی تعداد 113 ہے۔
شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے ورثہ آرکائیو میں قرآنی تفاسیر کے شعبے میں 185 سے زائد نادر مخطوطات محفوظ ہیں، جو نہ صرف قرطبی اور طبری جیسی مشہور تفاسیر کے حصہ ہیں بلکہ تجزیے اور تشریح کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں دیگر مخطوطات بھی موجود ہیں جو علومِ قرآن کے مختلف پہلوؤں جیسے تفسیر، تجوید، قرات اور مصاحف کا احاطہ کرتی ہیں۔
لائبریری کے ذخائر میں سورتوں کے اعراب، نحوی مسائل اور لسانی مباحث سے متعلق مواد بھی شامل ہے۔ یہ مواد چار بنیادی شعبوں میں منقسم ہے:
- تفسیر
- قرات، تجوید اور اجازات
- علومِ قرآن
- مصاحف
لائبریری کا مقصد ان نادر مخطوطات، دستاویزات، تصاویر اور قدیم سکوں کے ذریعے علمی ورثے کا مطالعہ آسان بنانا اور منظم سائنسی تحقیق کے لیے نئے دریچے کھولنا ہے۔ اس کے علاوہ، نایاب نسخوں کی نمائش کے ذریعے طلبہ، محققین اور عام عوام کو تاریخی اور علمی مواد تک رسائی فراہم کرنا بھی لائبریری کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔
عربی ورثہ اور اسلامی مقدسات یہاں کی سرگرمیوں کا بنیادی ستون ہیں۔ لائبریری میں 8571 کتب، 8000 سے زائد مخطوطات اور 32 ہزار سے زائد نادر کتب موجود ہیں۔ ان میں قدیم یورپی طباعت کے نادر مجموعے بھی شامل ہیں، جن میں:
- نبی کریم ﷺ کی سیرت پر 78 کتب
- قرآن کریم کے قدیم یورپی زبانوں میں 113 مترجم نسخے
- قرآنی علوم پر 55 کتب
- اسلامی مآخذ سے متعلق 54 کتب
یہ ذخائر نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر اسلامی اور قرآنی علوم کے مطالعے کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ "غریب القرآن” جیسے مخطوطات کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی تاریخ میں علمی و ادبی تحقیق اور قرآنی علوم کی تدوین کی روایت صدیوں پر محیط رہی ہے۔
لائبریری میں موجود قدیم نسخوں کی حفاظت اور نمائش سے نہ صرف موجودہ دور کے محققین مستفید ہو رہے ہیں بلکہ یہ نوجوان نسل کو بھی اسلامی اور عربی علمی ورثے سے روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان مخطوطات کے مطالعے سے نہ صرف قرآنی علوم میں گہرائی پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ عربی زبان اور خطاطی کی ترقی اور تاریخی تبدیلیوں کا بھی مطالعہ ممکن ہوتا ہے۔
ابو عبیدہ کی "غریب القرآن” کی رونمائی ایک اہم علمی واقعہ ہے، جو صدیوں پر محیط قرآنی تحقیق اور عربی ادبی روایت کی یادگار ہے۔ یہ مخطوطہ قدیم اندلسی خط کی خوبصورتی اور سورتوں کے ناموں میں خطِ کوفی کے منفرد انداز کے ساتھ ایک نادر تاریخی دستاویز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
اس تقریب اور لائبریری کی سرگرمیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنے اسلامی اور عربی علمی ورثے کو محفوظ رکھنے، عام کرنے اور عالمی سطح پر پیش کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ یہ اقدام عالمی محققین، اسکالرز اور طلبہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نادر نسخوں کی تحقیق اور قرآنی علوم کی تفہیم میں اضافہ ممکن ہو گا۔
