سعودی عرب میں زعفران کی مقامی پیداوار نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان مضبوط کر لی ہے۔ عالمی معیار ISO 3632 کے مطابق ٹیسٹنگ کے بعد سعودی زعفران کو "فرسٹ کلاس” درجے کا درجہ ملنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ ملک میں تیار کی جانے والی یہ قیمتی فصل اب عالمی معیار پر پورا اتر رہی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف زرعی شعبے کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ سعودی عرب کی اس حکمت عملی کو بھی اجاگر کرتی ہے جس کا مقصد زیادہ معاشی منافع دینے والی فصلوں کو مقامی سطح پر فروغ دینا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کارفرما ہے، جس میں تحقیق، تربیت اور عملی اطلاق کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں "استدامة” (پائیدار زراعت کے لیے قومی مرکز)، سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، اور شاہ سعود یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کردار ادا کیا۔ ان اداروں نے نہ صرف تحقیق کو فروغ دیا بلکہ کاشتکاروں کو جدید زرعی طریقوں سے بھی روشناس کروایا تاکہ پیداوار کا معیار عالمی سطح کے مطابق بنایا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت سعودی عرب کے مختلف جغرافیائی علاقوں میں زعفران کی کاشت کے تجربات کیے گئے۔ مجموعی طور پر 10 علاقوں میں تحقیق اور فیلڈ ٹرائلز کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کون سے موسمی اور زمینی حالات اس فصل کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس تحقیق میں بہترین بیجوں کے انتخاب، آب و ہوا کے مطابق کاشتکاری، اور جدید زرعی تکنیکوں کے استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ پیداوار نہ صرف زیادہ ہو بلکہ اس کا معیار بھی برقرار رہے۔
زعفران کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر عملی مہم بھی چلائی گئی۔ اس کے تحت 43 سے زائد کاشتکاروں کو 5 لاکھ سے زیادہ زعفران کے بیج فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ 40 سے زائد فارمز میں تحقیقی نتائج کو عملی شکل دی گئی، جن کا مجموعی رقبہ 3 لاکھ 64 ہزار مربع میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ کسانوں کو جدید زرعی نظام سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
زعفران کی کوالٹی برقرار رکھنے کے لیے ایک مکمل ویلیو چین اپروچ اپنائی گئی ہے، جس میں کاشت سے لے کر حتمی پراسیسنگ تک ہر مرحلے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ کاشتکاروں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ فصل کی دیکھ بھال، بروقت آبپاشی، اور بیماریوں سے بچاؤ کے جدید طریقے سیکھ سکیں۔ اس کے علاوہ پھولوں کی چنائی، صفائی، خشک کرنے اور محفوظ کرنے کے مراحل کو بھی سائنسی اصولوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے، تاکہ زعفران کی خوشبو، رنگ اور ذائقہ برقرار رہے۔
بین الاقوامی لیبارٹریز میں کیے گئے تجزیوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سعودی زعفران کے ریشے عالمی معیار کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف مقامی پیداوار پر اعتماد بڑھاتی ہے بلکہ اسے عالمی منڈیوں میں ایک مضبوط مقام بھی فراہم کرتی ہے۔ اس طرح سعودی زعفران اب بین الاقوامی سطح پر دیگر معروف برانڈز کے ساتھ مسابقت کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔
یہ تمام کوششیں سعودی عرب کے اس بڑے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ زعفران جیسی قیمتی فصل کی مقامی کاشت نہ صرف اقتصادی لحاظ سے فائدہ مند ہے بلکہ یہ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا بھی ذریعہ بن رہی ہے۔
مزید برآں، اس منصوبے کے ذریعے ایک مضبوط زرعی ویلیو چین تشکیل دی جا رہی ہے، جس میں پیداوار، پراسیسنگ، پیکجنگ اور مارکیٹنگ کے تمام مراحل شامل ہیں۔ اس سے نہ صرف مصنوعات کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں اس کی طلب کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سعودی زعفران کی یہ کامیابی محض ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ ایک جامع ترقیاتی ماڈل کی عکاسی کرتی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور عملی اقدامات کو یکجا کر کے عالمی معیار کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام مستقبل میں دیگر زرعی منصوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جہاں مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔
اس پیش رفت سے نہ صرف سعودی عرب کی زرعی خودکفالت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی مزید مستحکم ہوگی، جو کہ ایک پائیدار اور مضبوط معیشت کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
