مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں عالمی برادری کی نظریں اُن ممالک پر مرکوز ہیں جو اس نازک صورتحال میں توازن، بردباری اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے کردار کو ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے نہ صرف خطے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاکستان میں تعینات سفیر نواف بن سعید المالکی نے بھی حالیہ بیان میں پاکستان کے متوازن اور دانشمندانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے بحران کے دوران ایک اہم سفارتی کردار قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں سعودی سفیر نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں جذباتی ردعمل کے بجائے سمجھداری اور تدبر کی ضرورت ہے، اور پاکستان نے اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اعتدال اور امن پسندی جھلکتی ہے، جو کہ ایسے حساس وقت میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے نہ صرف کشیدگی میں کمی کی بات کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی مثبت کوششیں جاری رکھی ہیں۔
سعودی سفیر نے خطے میں حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف جارحانہ کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں، اور اس طرح کے اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کے بقول، ایسے حملے نہ صرف سیاسی بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ حملوں میں رہائشی علاقوں، شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس قسم کے اقدامات عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف جنگی اصولوں بلکہ اقوام متحدہ کے طے کردہ ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام ہر ریاست کی ذمہ داری ہے، اور ان اصولوں کی پاسداری کے بغیر عالمی امن کا قیام ممکن نہیں۔
سفیر نواف المالکی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ بحران کو قابو میں لانے کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سفارتی اور اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق، عالمی یکجہتی اور دانشمندانہ فیصلے ہی وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تقسیم کے بجائے اتحاد کی ضرورت ہے، تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت امن کو بحال کیا جا سکے۔
پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی اس کی سفارتی حکمت عملی قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان نے نہ صرف اصولی مؤقف اختیار کیا بلکہ انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو بھی ترجیح دی۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات ہی عالمی امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی اقدار کو مقدم رکھنا ہی کسی بھی بحران کے حل کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اگر عالمی برادری انسانی اصولوں پر کاربند رہے تو نہ صرف تنازعات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کو جنم لینے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، امن و سلامتی کا تحفظ صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام سے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
سعودی سفیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور وہ ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے میں مددگار ہو۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پر ہونے والے حملے تشویشناک ہیں اور ان سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ان کے بیان سے یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ رویہ، سفارتی تدبر اور عالمی قوانین کی پاسداری ہی وہ عوامل ہیں جو دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ پاکستان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دیگر ممالک بھی اسی طرزِ عمل کو اپنائیں تو خطے میں امن و استحکام کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ جدید دور میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں وہ ممالک جو توازن، حکمت اور انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں، نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ عالمی امن میں بھی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
