سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کے ممکنہ محاصرے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا منصوبہ فوری طور پر ترک کرے اور تنازع کے حل کے لیے دوبارہ سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آئے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے امریکی انتظامیہ پر واضح کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کے نظام کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔
عرب ذرائع کے مطابق ریاض کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کو بند کیا گیا تو تہران جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے کے دیگر اہم بحری راستوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ سعودی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران کی بحری آمد و رفت کو محدود کرنے کا مقصد تہران کی معیشت پر دباؤ بڑھانا ہے، جو پہلے ہی مختلف پابندیوں اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر باب المندب کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں بحری راستوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے ایک بڑے معاشی بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
