چین کے صدر شی جن پنگ اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
صدر شی جن پنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے کو ہی واحد حل سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے اپنا وفد پاکستان نہیں بھیجے گا۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران ایک پُرامن ملک ہے، تاہم امریکا نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے جارحانہ کارروائیاں کی ہیں اور جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے فوری جنگ بندی اور بحری راستوں کی بحالی پر زور اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا شکار ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں
