سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی، سیاسی حالات اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب خلیجی ممالک گزشتہ دو ماہ سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث براہ راست دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ تنازع کے بعد خلیجی قیادت کی یہ پہلی براہ راست ملاقات تھی۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق جدہ میں ہونے والے اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ وفود نے شرکت کی۔ اجلاس میں بحرین کے بادشاہ شاہ حمد بن عیسیٰ، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، کویت کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران رکن ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور موجودہ بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک خلیجی عہدیدار نے بتایا کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں اجتماعی ردعمل اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا تھا، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Add A Comment