سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے، خاص طور پر ان ممالک کی جو 1995 کی قرارداد کے ضامن رہے ہیں۔ مملکت نے کہا کہ اسرائیل کا ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل نہ ہونا اس مقصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے اقوام متحدہ میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس معاہدے کو عالمی سلامتی کے نظام کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عملدرآمد اور اس کے تینوں پہلوؤں میں توازن کی ضرورت پر زور دیا۔
سعودی عرب نے ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک سے اسلحہ کم کرنے کے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کی واحد ضمانت ان کا مکمل خاتمہ ہے۔ ساتھ ہی مملکت نے رکن ممالک کے اس حق کی بھی حمایت کی کہ وہ بغیر کسی اضافی پابندی کے ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کریں، بشرطیکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ شفاف تعاون برقرار رکھا جائے۔
اپنے خطاب میں سعودی مندوب نے ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، جس کی عالمی برادری نے بھی مذمت کی۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے تاکہ اس کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت یقینی بنائی جا سکے۔
سعودی عرب نے خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، جبکہ ایرانی حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مملکت نے القدس کے تاریخی اور قانونی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے غیر قانونی بستیوں کے قیام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
آخر میں سعودی عرب نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے فوری جنگ بندی، غزہ سے انخلا، جبری بے دخلی کا خاتمہ اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔
