اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دنیا جس تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی سمت بڑھ رہی ہے، اس نے روزگار کے مواقع ختم نہیں بلکہ ان کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا اصل سوال یہ نہیں ہے کہ "کیا اے آئی ملازمتوں کی جگہ لے لے گی؟” بلکہ یہ ہے کہ "کیا ہمارا نوجوان طبقہ ان نئے اوزاروں کو سیکھ کر قیادت کے لیے تیار ہے یا نہیں؟”
انہوں نے اس موقع پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت گزر چکا جب محض ڈگری اور عددی اعتبار سے اسناد اہمیت رکھتی تھیں۔ اب کامیابی کا معیار یہ ہے کہ کسی کی مہارت مستقبل کی نوکریوں اور مارکیٹ کے تقاضوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی طبقہ ملک کے ڈیجیٹل مستقبل اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی اصل بنیاد ہے۔
شزا فاطمہ نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس حکومت کے "ڈیجیٹل اسکلز پروگرام” کے تحت ایک لاکھ طلبہ کو جدید تربیت دی گئی، جبکہ اس سال یہ ہدف بڑھا کر دس لاکھ طلبہ تک لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام صرف ٹریننگ تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ہونے والی تقریب کے دوران وزارتِ آئی ٹی اور کالج کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت کالج کے نمایاں طلبہ کو انٹرنشپ اور تربیت کے مواقع دیے جائیں گے تاکہ وہ عملی زندگی میں بآسانی قدم رکھ سکیں۔ مزید برآں سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور کنٹینٹ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرٹیفیکیشن پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزیر نے اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ کی تربیت بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق آئندہ نسل کو ڈیٹا لٹریسی، اے آئی اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ علم اور مہارت کا معیار عالمی سطح سے ہم آہنگ ہو سکے۔ وزارتِ آئی ٹی کی کوشش ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران اسلام آباد کے تمام اسکولوں اور ضلعی اداروں کو فائبر انٹرنیٹ کے ذریعے منسلک کر دیا جائے تاکہ ای-کلاس رومز کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب "ڈیجیٹل دور” سے آگے بڑھ کر "انٹیلیجنٹ دور” میں داخل ہو رہا ہے جس کی بنیاد مصنوعی ذہانت پر ہے۔ یہ انقلاب صرف تعلیمی میدان تک محدود نہیں بلکہ ہیلتھ ٹیک، فِن ٹیک، ای-گورننس اور دیگر تمام شعبوں کو تیزی سے بدل رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پراپرٹی ریکارڈ، صحت اور تعلیم کے نظام کو بھی ڈیجیٹل بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جائیداد کی خرید و فروخت خودکار طور پر ریکارڈ ہو گی جس سے شفافیت بڑھے گی، جبکہ صحت کے اعداد و شمار قومی شناختی نظام سے جڑ جائیں گے تاکہ بہتر علاج کی سہولت مل سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس عمل میں پرائیویسی کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے گا اور اسپتال صرف مریض کے متعلقہ طبی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے دو بڑے رخ بھی بیان کیے۔ ایک طرف آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور دوسری طرف حکومتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔ اس ضمن میں قومی آئی ٹی بورڈ کے تحت "ای-آفس” سسٹم متعارف کرایا جا چکا ہے جس کی بدولت وزراء کسی بھی فائل کی پیش رفت کو ہر مرحلے پر دیکھ سکتے ہیں، جس سے تاخیر اور رکاوٹوں پر قابو پایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت پاکستان کی اقوامِ متحدہ کے "ای-گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس” میں پچھلے سال چودہ پوائنٹس کی بہتری ہوئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ "پاک آئی ڈی ایپ” کے ذریعے ایک ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے شہری اپنی شناختی دستاویزات کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور جائیداد کے ریکارڈ کو بھی آن لائن باآسانی استعمال کر سکیں گے۔ اس اقدام سے بیوروکریسی کی پیچیدگیاں کم ہوں گی اور عوام کو فوری سہولت میسر آئے گی۔
اپنے خطاب کے آخر میں شزا فاطمہ خواجہ نے کیڈٹ کالج حسن ابدال کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ اس ادارے نے ہمیشہ ملک کو ایسے فوجی، ڈاکٹر، وکیل اور دیگر پیشہ ور فراہم کیے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خدمت خلوصِ دل سے کی ہے۔
