پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کو حالیہ برسوں میں ایک ایسے غیر معمولی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس نے نہ صرف اس کے جہازوں کو بندرگاہ پر روکے رکھا بلکہ حکومتِ پاکستان کو بھی بھاری مالی اخراجات کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ تمام معاملہ اس وقت شروع ہوا جب جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے PNSC کے دو بحری جہاز — ایم وی چترال اور ایم وی حیدرآباد — کو ایک کمپنی کونسٹن لمیٹڈ کی درخواست پر تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی نے پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کے خلاف مالی دعوے دائر کیے تھے، اور چونکہ حکومتِ پاکستان کی بڑی ملکیتی کمپنی PNSC کے جہاز دستیاب تھے، لہٰذا ان پر قانونی کارروائی کے تحت گرفت کر لی گئی۔
اس گرفتاری کے بعد ایک بڑا قانونی بحران پیدا ہو گیا۔ عدالت نے جہازوں کو اس وقت تک روکے رکھنے کا حکم دیا جب تک کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایک بھاری مالی ضمانت جمع نہ کرا دے۔ یوں PNSC کو حکومت کی یقین دہانی پر ساڑھے گیارہ ملین ڈالر (یعنی تقریباً 11.6 ملین ڈالر) بطور سیکیورٹی جمع کرانا پڑے۔ یہ رقم ایک بڑے بیمہ معاہدے کے ذریعے جمع کرائی گئی تاکہ اگر کیس کا فیصلہ پاکستان اسٹیل ملز کے خلاف آتا تو کونسٹن لمیٹڈ اس رقم کو ضبط کر سکتا۔
جہازوں کی رہائی کے لیے کیے گئے اس عمل پر PNSC کو مجموعی طور پر 479.326 ملین روپے خرچ کرنا پڑے۔ یہ اخراجات صرف وکلاء کی فیس یا عدالتوں میں دائر کیے جانے والے مقدمات پر نہیں بلکہ انشورنس پریمیم پر بھی اٹھے۔ یہ پریمیم باقاعدگی سے ادا کیا جا رہا تھا تاکہ عدالت میں رکھی گئی ضمانت برقرار رہے۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق صرف حالیہ عرصے میں PNSC کو 330.526 ملین روپے اضافی طور پر خرچ کرنے پڑے، جبکہ اس سے پہلے 149 ملین روپے کی واپسی خزانے سے ہو چکی تھی۔
یہ مسئلہ اتنا بڑا تھا کہ وزارتِ بحری امور کو متعدد بار اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) سے رجوع کرنا پڑا۔ سب سے پہلے مارچ 2017 میں وزارتِ خزانہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت اس ضمانت کو اپنی ذمہ داری سمجھے گی اور اگر کوئی منفی فیصلہ آیا تو PNSC کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ بعد ازاں 14 ستمبر 2017 کو ای سی سی نے فیصلہ دیا کہ اس معاملے میں قانونی مشورہ بھی حاصل کیا جائے تاکہ PNSC کے اثاثوں کو کسی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔
وقت گزرتا گیا اور 2020 میں دوبارہ یہ مسئلہ ای سی سی کے سامنے لایا گیا۔ اس اجلاس میں وزارتِ صنعت، وزارتِ بحری امور اور اٹارنی جنرل کے دفتر کو حکم دیا گیا کہ عدالت کے فیصلے کا جائزہ لے کر آئندہ کی حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ اسی دوران PNSC کو 149 ملین روپے واپس بھی کر دیے گئے تاکہ اخراجات کا بوجھ کم ہو سکے۔
چونکہ معاملہ بڑھتا جا رہا تھا اور دعویٰ کرنے والی کمپنی 15 ملین ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی تھی، اس لیے وزیرِاعظم نے ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کا مقصد یہ تھا کہ کونسٹن لمیٹڈ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی جائے اور ایک دوستانہ حل نکالا جائے۔ کئی اجلاسوں کے بعد کمیٹی نے سفارش دی کہ 6 سے 11 ملین ڈالر کے درمیان ایک متبادل پیشکش کی جائے تاکہ معاملہ مکمل طور پر نمٹا دیا جائے۔ وزیرِاعظم نے ان تجاویز کی منظوری بھی دی اور وزارتِ بحری امور کو ہدایت دی کہ وہ ای سی سی کو اس بارے میں باضابطہ سمری پیش کرے۔
جنوری 2025 میں یہ سمری کابینہ ڈویژن کو بھجوائی گئی، جس نے مختلف وزارتوں سے رائے مانگی۔ وزارتِ خزانہ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے 330.526 ملین روپے بطور تکنیکی ضمنی گرانٹ فراہم کرنے پر تیار ہے، بشرطیکہ یہ رقم بچت سے نکالی جائے۔ بعد میں یہ سمری دوبارہ جولائی 2025 میں کابینہ ڈویژن کو بھیجی گئی تاکہ اسے ای سی سی میں پیش کیا جا سکے۔
بالآخر، ای سی سی نے "جنوبی افریقہ میں کونسٹن لمیٹڈ کے دعوے پر PNSC کے جہازوں کی گرفتاری” کے عنوان سے پیش کی گئی سمری کو منظور کر لیا۔ اس فیصلے کے تحت وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی گئی کہ چوتھی سہ ماہی کے دوران وزارتِ بحری امور کے لیے 330.626 ملین روپے جاری کیے جائیں۔
یہ معاملہ صرف ایک تجارتی تنازع نہیں بلکہ ایک قومی اہمیت کا حامل مسئلہ بن چکا ہے۔ اس میں نہ صرف پاکستان اسٹیل ملز کے پرانے قرضے اور مالی دعوے شامل ہیں بلکہ پاکستان کی سمندری صنعت اور قومی وقار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ جہازوں کی گرفتاری نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے اندرونی مالی تنازعات بین الاقوامی سطح پر بھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور اسے "عوامی اہمیت” کا معاملہ قرار دے کر بارہا ای سی سی میں پیش کیا۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ حکومت نے PNSC کو اس بھاری بوجھ سے نکالنے کے لیے اربوں روپے کے مساوی فنڈز فراہم کر دیے ہیں۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا پاکستان اسٹیل ملز کے ان پرانے واجبات اور تنازعات کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے گا یا نہیں۔ وزارتِ بحری امور کی کوشش ہے کہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے جامع پالیسی وضع کی جائے تاکہ قومی جہاز رانی کمپنی کو کسی بھی بیرونی عدالت میں دوبارہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
