واشنگٹن: دنیا کے 25 ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا جانے والی پارسل اور ڈاک خدمات کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 29 اگست سے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس کے اثرات پر عالمی سطح پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اس فیصلے میں شامل ممالک میں فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں، جنہوں نے کہا کہ زیادہ تر امریکا جانے والے پارسل اب قبول نہیں کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے تصدیق کی ہے کہ 25 رکن ممالک نے اطلاع دی ہے کہ ان کے ڈاک آپریٹرز نے امریکا جانے والی ڈاک خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، کیونکہ ٹرانزٹ خدمات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
یو پی یو نے کہا کہ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک واضح نہ ہو جائے کہ امریکی حکام ان اقدامات کو کس طرح نافذ کریں گے۔ تاہم، ادارے نے یہ واضح کیا کہ اس معطلی سے دنیا بھر میں ڈاک آپریٹرز کو نمایاں عملی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
1874 میں قائم ہونے والے یو پی یو کے 192 رکن ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک تاریخی چیلنج ہے، کیونکہ امریکا کے نئے اقدامات عالمی ڈاک نیٹ ورک اور بین الاقوامی ترسیلات پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
