پاکستان کے اسٹارٹ اپس نے ایک بار پھر دنیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ فوربز ایشیا کی "100 ٹو واچ 2025” فہرست میں پاکستان سے دو نئے نام شامل ہوئے ہیں، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہماری نوجوان نسل عالمی کاروباری میدان میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں اسٹارٹ اپس—حبال (Haball) اور پوسٹ ایکس (PostEx)—نے اپنی محنت اور منفرد آئیڈیاز کے ذریعے یہ کامیابی حاصل کی ہے، جو نہ صرف کمپنیوں کے لیے بلکہ پاکستان کی پوری انٹرپرینیورشپ کمیونٹی کے لیے فخر کا موقع ہے۔
حبال 2017 میں قائم ہوا تھا۔ اس کا مقصد کاروباری اداروں کے لیے شریعت کے مطابق جدید مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ کمپنی ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس کمپلائنس، سپلائی چین فنانسنگ اور ورکنگ کیپیٹل کے مسائل کا حل دیتی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں حبال نے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی ادائیگیاں پراسیس کی ہیں۔
اپریل 2025 میں کمپنی نے مزید ترقی کے لیے 50 ملین ڈالر ایکویٹی اور 470 ملین ڈالر کی فنانسنگ حاصل کی، جس میں بڑے ادارے جیسے مییزان بینک اور Zayn VC نے سرمایہ کاری کی۔ اس سرمایہ کاری کی بدولت حبال کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ خلیجی ممالک، جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی اپنی خدمات بڑھانے کا موقع ملا ہے۔
دوسری جانب، پوسٹ ایکس نے 2020 میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ یہ ایک ہائبرڈ لاجسٹکس اور فِن ٹیک ماڈل پر مبنی کمپنی ہے جو آن لائن کاروبار کرنے والے تاجروں کو "کیش آن ڈیلیوری” پر پیشگی رقم ادا کرتی ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر پاکستان جیسی نقد پر مبنی معیشت میں بہت کامیاب ثابت ہوا، کیونکہ اس نے تاجروں کو نقد بہاؤ کی مشکلات سے نکالنے میں مدد دی۔ فوربز نے اس منفرد ماڈل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پوسٹ ایکس کو اپنی فہرست میں شامل کیا۔
پوسٹ ایکس نے صرف چند برسوں میں بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔ 2022 میں اس نے کال کورئیر کو حاصل کرکے ملک کی سب سے بڑی ای-کامرس ڈلیوری سروس بنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے 7.3 ملین ڈالر کی فنڈنگ بھی حاصل کی تاکہ اپنی خدمات مشرق وسطیٰ تک بڑھا سکے۔ اس کمپنی کی تیز رفتار ترقی نے پاکستانی اسٹارٹ اپ دنیا کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔
یہ اعزاز اس وقت سامنے آیا ہے جب فوربز کی فہرست میں شامل تمام اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر تقریباً 3 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی، جو پچھلے سال کے 2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیا پیسفک خطے میں انوویشن اور ٹیکنالوجی کا شعبہ کس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور پاکستان کے نوجوان بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں۔
یہ کامیابیاں مستقبل میں مزید پاکستانی کمپنیوں کے لیے راستے کھولیں گی اور ملک کی معیشت کو بھی نئی توانائی فراہم کریں گی۔
