پاکستان میں واقع عظیم کان کنی منصوبہ "ریکو ڈک” نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے جب جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون (JBIC) نے اس میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ JBIC کے کان کنی اور دھاتوں سے متعلق ڈائریکٹر جنرل ٹارو کیٹو نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کی تو وزیر نے اس دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ملک بھر میں حکومت اس منصوبے کی مکمل پشت پناہی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریکو ڈک نہ صرف کان کنی میں نئی مثال قائم کرے گا بلکہ شفاف اور پائیدار طریقے سے کام کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ JBIC نے نہ صرف کان کنی بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس منصوبے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اس کے لیے 4 اعشاریہ 10 کروڑ ڈالر کی مالیاتی مدد منظور کی ہے، مگر ساتھ ہی انسانیت دوست اور ماحولیاتی کارکنوں نے مقامی برادریوں اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بھی اٹھائے ہیں۔
اس کے علاوہ، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) نے بھی اس منصوبے کے لیے 4 سو ملین ڈالر کا سب آرڈینیٹڈ قرضہ دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے اس کی کل شراکت ستّر کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ریکو ڈک کان کنی منصوبہ نہ صرف پاکستان میں سب سے بڑا غیر فعال کان کنی منصوبہ ہے بلکہ اس سے آنے والے 37 سالوں میں تقریباً 74 ارب ڈالر کی آمدنی ہونے کی توقع ہے — یہ رقم ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ منصوبہ اپنی نوعیت میں نیا اور وسیع ہے، کیونکہ اس پر مختلف بین الاقوامی مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں — جیسے ADB، IFC، JBIC، اور دیگر۔
پل سے پار کرنے والا ریلوے بھی اس کا حصہ ہے؛ کیونکہ کان میں نکالنے والا مسوّی مواد کامیابی کے ساتھ باہر منتقل کرنے کے لیے ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈنگ بھی ضروری ہے، اور اس کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔
