روس کی سب سے بڑی گیس کمپنی نے ایک نیا اور بڑا قدم اٹھایا ہے جس کے تحت چین کو توانائی کی فراہمی مزید وسعت اختیار کرے گی۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق گیزپروم نے بیجنگ میں ایک باقاعدہ قانونی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے "پاور آف سائبیریا ٹو” نامی نئی گیس پائپ لائن تعمیر کی جائے گی جو منگولیا کے راستے چین تک پہنچے گی۔ یہ منصوبہ طویل المدتی ہے اور کمپنی آئندہ تیس سال تک سالانہ تقریباً پچاس ارب مکعب میٹر گیس اس راستے سے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس گیس کی قیمت یورپی صارفین کو فراہم کی جانے والی قیمتوں کے مقابلے میں کم ہو گی تاکہ چین کے ساتھ تجارتی تعلق مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپ میں گیس کی طلب اور درآمدات میں کمی آئی ہے۔ اس کمی کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے ماسکو نے ایشیا، خاص طور پر چین، کی مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ یوں یہ معاہدہ نہ صرف روسی معیشت کے لیے ریلیف ثابت ہوگا بلکہ چین کے لیے توانائی کی ایک بڑی اور مستحکم سپلائی کا ذریعہ بھی بنے گا۔
نئی پائپ لائن کے ساتھ ساتھ گیزپروم نے یہ بھی طے کیا ہے کہ موجودہ "پاور آف سائبیریا” پائپ لائن کے ذریعے سالانہ چھ ارب مکعب میٹر مزید گیس بھی چین کو فراہم کی جائے گی۔ اس وقت اس پائپ لائن کی سالانہ گنجائش تقریباً اڑتیس ارب مکعب میٹر ہے، لیکن اضافی فراہمی سے چین کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے گا۔
مشرقی بعید کے راستے جو ایک اور منصوبہ ہے اور جس کا آغاز 2027 میں متوقع ہے، اس کے تحت بھی پہلے سے اعلان کردہ دس ارب مکعب میٹر سالانہ کی فراہمی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس طرح چین کے لیے گیس کی سپلائی مجموعی طور پر کئی گنا بڑھ جائے گی۔
گیزپروم کے اعلیٰ عہدیداران کے مطابق، اس منصوبے سے نہ صرف روس اور چین کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات مزید گہرے ہوں گے بلکہ روس اپنے آپ کو ایشیا میں سب سے بڑے گیس فراہم کنندہ کے طور پر مزید مستحکم کر پائے گا۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدے چین کے صنعتی شعبے کے لیے نئی سہولتیں فراہم کریں گے اور روس کو بھی یورپ کی کم ہوتی طلب کے مقابلے میں ایک متبادل مارکیٹ میسر آئے گی۔
اس طرح یہ پراجیکٹس دونوں ممالک کے لیے ایک "ون ون سچویشن” ثابت ہوں گے، جہاں روس اپنی گیس کے لیے ایک بڑا خریدار یقینی بنا رہا ہے جبکہ چین کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں کے لیے مستقل اور کم قیمت توانائی کی فراہمی حاصل ہوگی۔
