اگست کے مہینے میں سعودی عرب کے نجی غیر تیل شعبے کی کارکردگی عمومی طور پر مثبت رہی اور کاروباری سرگرمیوں میں جولائی کے مقابلے میں معمولی مگر نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق آرڈرز میں اضافہ ہوا جس نے مجموعی کاروباری رفتار کو سہارا دیا اور تجارتی اعتماد کو بہتر بنایا۔
ریاض بینک کے جاری کردہ سعودی پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) کے مطابق اگست میں یہ شرح بڑھ کر 56.4 پر پہنچ گئی، جو جولائی میں 56.3 تھی۔ یہ انڈیکس 50 سے اوپر رہنے کا مطلب ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں توسیع جاری ہے۔ اس معمولی اضافے کو ماہرین نے اس بات کی علامت قرار دیا ہے کہ مانگ میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، پیداوار میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے اور روزگار کے مواقع بھی وسیع ہو رہے ہیں۔
اگرچہ سال کے آغاز میں دیکھی جانے والی تیز رفتار نمو میں کچھ کمی دیکھنے کو ملی، لیکن مجموعی رجحان اب بھی مثبت سمت میں جا رہا ہے۔ نئے آرڈرز کا بڑھنا خاص طور پر معاشی حالات کے بہتر ہونے اور خطے میں تعاون بڑھنے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور مارکیٹنگ کے اقدامات نے برآمدات کے آرڈرز کو بھی سہارا دیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ چار مہینوں میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی۔
سروے کے مطابق نئے آرڈرز کے سب انڈیکس میں بھی اضافہ ہوا جو اگست میں 60.1 تک پہنچ گیا، جبکہ جولائی میں یہ 59.7 تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیوں کو گھریلو اور بیرونی دونوں سطحوں پر مانگ بڑھنے کا سامنا ہے۔
ملازمتوں کے حوالے سے بھی مثبت رجحان رہا، اگرچہ روزگار کے مواقع میں اضافہ پچھلے مہینوں کے مقابلے میں کچھ سست رہا۔ کمپنیوں نے سیلز ٹیموں کو وسیع کرنے اور نئے منصوبے شروع کرنے پر توجہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹاک یا انوینٹری کی سطح میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو کہ چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اور اس کی بڑی وجہ بڑھتے ہوئے آرڈرز ہیں۔
ادھر کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے مہینے اضافہ کیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ خام مال اور خریداری کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جسے عالمی افراطِ زر کے دباؤ نے مزید بڑھا دیا۔
کاروباری اعتماد میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ جولائی میں جو اعتماد 12 ماہ کی کم ترین سطح پر تھا، اگست میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مستقبل کے حوالے سے غیر تیل نجی شعبے کی کمپنیوں کا مجموعی رجحان پرامید رہا اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں پیداوار میں مزید بہتری آئے گی۔
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب کا نجی غیر تیل شعبہ عالمی چیلنجز کے باوجود ایک مستحکم راستے پر گامزن ہے۔ طلب میں بتدریج اضافہ، برآمدات میں بہتری، نئے منصوبے، ملازمتوں میں اضافہ اور کاروباری اعتماد کا بحال ہونا مجموعی طور پر مثبت اشارے ہیں جو معیشت کو مزید مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
