شام کے حوالے سے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ ملک نے باضابطہ طور پر خام تیل بیرونِ ملک بھیجا ہے۔
طرطوس کی بندرگاہ سے چھ لاکھ بیرل بھاری خام تیل ایک تجارتی کمپنی کو فروخت کیا گیا۔ یہ عمل شام کی حالیہ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ سنہ 2010 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے سرکاری سطح پر تیل برآمد کیا ہے۔ اس وقت شام روزانہ تین لاکھ اسی ہزار بیرل تیل برآمد کر رہا تھا لیکن خانہ جنگی اور طویل جنگ نے اس شعبے کو تقریباً مفلوج کر دیا تھا۔
سنہ 2011 میں شروع ہونے والی عوامی بغاوت اور پھر قریب چودہ برس تک جاری رہنے والے مسلح تصادم نے نہ صرف معیشت بلکہ انفراسٹرکچر کو بھی بری طرح تباہ کیا۔ تیل کی پیداوار اور ترسیل کا پورا نظام بکھر گیا۔ گزشتہ برس دسمبر میں بشارالاسد کا اقتدار ختم ہوا اور ایک نئی حکومت سامنے آئی جس نے عہد کیا کہ ملکی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے گا۔ توانائی کے شعبے میں تازہ اقدام اسی وعدے کی ایک مثال ہے۔
شام کی وزارتِ توانائی کے ایک اعلیٰ عہدیدار ریاض الجوباسی کے مطابق یہ تیل مختلف فیلڈز سے نکالا گیا اور اسے "بی سرو انرجی” نامی کمپنی کو فروخت کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کے روابط بین الاقوامی تجارتی ادارے "بی بی انرجی” سے بتائے جاتے ہیں۔ وزارت کی تحریری وضاحت کے مطابق یہ کھیپ "نیسوس کرسٹیانا” نامی آئل ٹینکر کے ذریعے برآمد کی گئی۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تیل کن فیلڈز سے نکالا گیا، لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ شام کے بیشتر ذخائر شمال مشرقی علاقوں میں ہیں جہاں کرد قیادت والی انتظامیہ برسوں سے قابض رہی ہے۔ رواں برس فروری میں ان مقامی حکام نے دمشق کی مرکزی حکومت کو تیل فراہم کرنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں دونوں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ بنی کہ کرد اور دیگر اقلیتوں کے حقوق اور شراکت داری کے معاملے پر اعتماد کی کمی پیدا ہو گئی۔
طویل جنگ کے دوران تیل کے یہ ذخائر کئی بار مختلف گروہوں کے درمیان ہاتھ بدلتے رہے۔ ساتھ ہی یورپی اور امریکی پابندیوں نے قانونی درآمدات اور برآمدات دونوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اگرچہ الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی کچھ مہینے تک پابندیاں برقرار رہیں، لیکن اس دوران ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا رہا۔
حالات نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے شام پر عائد امریکی پابندیاں ختم کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں نے شام کے تیل اور گیس کے وسائل کو دریافت کرنے اور ان سے استفادہ کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اس سے شام کے لیے عالمی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہو گئی۔
توانائی کے شعبے میں ترقی کے ساتھ ساتھ شام نے بندرگاہی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے بھی قدم اٹھایا ہے۔ طرطوس کی بندرگاہ کے حوالے سے "ڈی پی ورلڈ” کے ساتھ 800 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے تحت یہ کمپنی ایک کثیرالمقاصد ٹرمینل کی تعمیر، انتظام اور آپریشن کرے گی۔ اس سے پہلے یہی بندرگاہ ایک روسی کمپنی کے پاس تھی لیکن الاسد کے دورِ حکومت میں کیا جانے والا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔
