پاکستان کے بیرونی شعبے کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار نے حکومت اور ماہرینِ معیشت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جولائی اور اگست 2024ء کے صرف دو مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 29 فیصد بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ برس کے اسی دورانیے کے مقابلے میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر زیادہ ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہوا ہے جبکہ برآمدات تقریباً جمود کا شکار ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں برآمدات صرف 5.1 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں محض 0.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، درآمدات 14 فیصد بڑھ کر 11.1 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جو برآمدات کی کل قدر سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف دو ماہ میں پیدا ہونے والا اضافی خسارہ، یعنی 1.4 ارب ڈالر، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک قسط سے بھی بڑا ہے جس پر پاکستان اسی ماہ مذاکرات کرنے والا ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں درآمدی ٹیکسوں کو 52 فیصد کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس پالیسی کا پہلا مرحلہ جولائی سے نافذ بھی ہو چکا ہے۔
برآمد کنندگان کا شکوہ ہے کہ روپے کی قدر میں استحکام نے ان کی مسابقت کو کمزور کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر بہتر ہو کر 281 روپے 72 پیسے فی ڈالر پر بند ہوئی، لیکن دو برس قبل جب روپے میں تیزی سے گراوٹ آئی تھی، تب بھی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا اور یہ تقریباً ڈھائی ارب ڈالر ماہانہ پر ہی رکی رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض کرنسی کی قدر کا اتار چڑھاؤ برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
مختلف ادوار میں حکومتوں نے کئی منصوبے متعارف کرائے، جیسے پلاننگ کمیشن کا ’’اُڑان پاکستان‘‘ اور اسٹیفن ڈیرکن کا اکنامک گروتھ پلان، لیکن ان اقدامات کے باوجود برآمدات کو مطلوبہ سطح تک بڑھانا ممکن نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک کی معیشت زیادہ تر بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر انحصار کر رہی ہے۔
پی بی ایس کے مطابق صرف اگست 2024ء میں برآمدات 2.4 ارب ڈالر رہیں جو پچھلے سال کے اسی مہینے سے 12.5 فیصد کم ہیں۔ دوسری جانب اسی ماہ میں درآمدات 6.4 فیصد بڑھ کر 5.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح اگست کا تجارتی خسارہ 30 فیصد بڑھ کر 2.9 ارب ڈالر ہو گیا۔ اگرچہ جولائی کے مقابلے میں ماہ بہ ماہ خسارے میں 8.8 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے لیکن یہ کمی محض عارضی دکھائی دیتی ہے کیونکہ جولائی میں کئی بڑی درآمدات کو کلیئر کر دیا گیا تھا جنہیں درآمدکنندگان نے ٹیکسوں میں ممکنہ کمی کے انتظار میں مؤخر کر رکھا تھا۔
درآمدات میں اضافے کا اثر محصولات پر بھی سامنے آیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دو ماہ میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 204 ارب روپے وصول کیے جو مقررہ ہدف 192 ارب روپے سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ شرحِ نمو مجموعی ٹیکس وصولیوں سے بھی بلند رہی ہے، کیونکہ کل قومی محصولات 1660 ارب روپے تک پہنچے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی رفتار یہی رہی اور درآمدات مسلسل بڑھتی رہیں تو پاکستان کو اپنے تجارتی آزادکاری (Trade Liberalisation) کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ وزارتِ تجارت اور عالمی بینک کا اندازہ تھا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں درمیانی اور طویل مدتی عرصے میں برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ درآمدات صرف 5 سے 7 فیصد تک بڑھیں گی۔ لیکن موجودہ اعداد و شمار اس امید کے برخلاف جا رہے ہیں۔
