پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ میں ہے اور حکومت نے مالی دباؤ کے باعث ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی سفارش پر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں حکومت نے چینی سبسڈی کے لیے مختص پندرہ ارب روپے کا فنڈ روک کر ادارے کی بندش کے اخراجات پورے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل ملا کر ای سی سی نے تیس ارب روپے کی خطیر رقم اس عمل کے لیے منظور کی ہے، جس میں سے ایک بڑی حصہ اثاثوں کی فروخت سے حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ادارہ 3 ستمبر 1971 کو قائم ہوا تھا تاکہ عام عوام کو ضروری اشیاء کم قیمت پر دستیاب کرائی جا سکیں۔ شروع میں محدود پیمانے پر خدمات فراہم کی گئیں لیکن 2007 میں اس کا دائرہ کار یونین کونسل کی سطح تک بڑھا دیا گیا۔ اس توسیع کے نتیجے میں اسٹورز کی تعداد 1,023 سے بڑھ کر 5,557 تک جا پہنچی اور ملازمین کی تعداد بھی 3,892 سے بڑھا کر 12,700 کر دی گئی۔ اس غیر معمولی پھیلاؤ کے لیے بھاری سبسڈی فراہم کی جاتی رہی لیکن 2013 کے بعد سے ادارہ مسلسل خسارے میں رہا۔ جون 2025 تک اس کے مجموعی نقصانات 238 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔
حکومت نے اگست 2024 میں کابینہ اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کو نجکاری کے دوسرے مرحلے میں شامل کر دیا تھا اور صرف چند دن بعد سبسڈیز مکمل طور پر ختم کر دی گئیں۔ اس کے بعد دسمبر 2024 میں ادارے کے بورڈ نے اخراجات کم کرنے کے لیے ری اسٹرکچرنگ کی منظوری دی، جس کے تحت اسٹورز کی تعداد 3,742 سے گھٹا کر 2,712 کر دی گئی اور ملازمین بھی 11,614 سے کم کر کے 7,710 رہ گئے۔ باوجود اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 8.3 ارب روپے لگایا گیا۔
جون 2025 میں معاملہ براہ راست وزیراعظم کے سامنے رکھا گیا جہاں دو آپشنز دیے گئے: ایک تو یہ کہ ادارہ 31 جولائی تک مکمل طور پر بند کر دیا جائے یا پھر نجکاری مکمل ہونے تک اسے ایک ارب روپے کے عارضی گرانٹ سے چلایا جائے۔ وزیراعظم نے فوری بندش کا فیصلہ کیا اور وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ عمل درآمد اور ملازمین کو ادائیگی کے طریقہ کار کا تعین کیا جا سکے۔
جولائی کے آغاز سے 14 جولائی تک یوٹیلیٹی اسٹورز نے 1,059 کرایہ پر لیے گئے مراکز اور 1,230 فرنچائز بند کر دیے۔ اس دوران ملازمین کی یونینز اور نمائندہ تنظیموں نے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنا دے دیا جس سے معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی جس نے مذاکرات کے بعد 31 جولائی کو احتجاج ختم کرایا۔
اگست 2025 میں وزیر خزانہ کی کمیٹی نے چار اجلاس منعقد کیے جن میں ادارے کی بندش کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے ایک پیکج تیار کیا جس میں ریگولر ملازمین کے لیے 13.2 ارب روپے کے سیورنس فنڈز، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کے لیے 2.1 سے 6.3 ارب روپے کے درمیان ادائیگی، جبکہ بیواؤں اور ملازمین کے واجبات کے لیے 5.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔ مجموعی طور پر یہ پیکج تقریباً 16 سے 19.5 ارب روپے کا تھا۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ 31 جولائی 2025 کو ادارہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اسٹاکس گوداموں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ بیشتر ملازمین کو 31 اگست تک فارغ کرنے کا منصوبہ تھا لیکن تنخواہوں کے بحران نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی۔ ملازمین کو اپریل کے آدھے اور جون کی پوری تنخواہ اب تک نہیں ملی۔
ادارہ اس وقت 21 جائیدادوں کا مالک ہے جن کی ابتدائی ویلیو اسٹیٹ بینک کے منظور شدہ سروے کے مطابق 10 سے 12.6 ارب روپے کے درمیان ہے۔ تاہم کچھ جائیدادوں کی ملکیت اب بھی نجکاری کمیشن کے نام پر ہے جبکہ کئی مقامات پر لیز، کمرشلائزیشن اور سرٹیفکیشن کے مسائل درپیش ہیں۔ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ ان جائیدادوں کو جلد فروخت کر کے اخراجات پورے کیے جائیں۔
بندش کے بعد بھی کچھ ملازمین کی ضرورت باقی رہے گی۔ ستمبر سے نومبر 2025 تک تقریباً 832 ملازمین کو آڈٹ، ریکنسلی ایشن اور نیلامی کے لیے رکھا جائے گا جن پر ماہانہ 21 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دسمبر 2025 سے جون 2026 تک یہ عملہ کم ہو کر 325 رہ جائے گا اور اخراجات بھی گھٹ کر ماہانہ 11.5 کروڑ روپے رہیں گے۔
وزارت صنعت و پیداوار نے واضح کیا کہ فی الحال ادارے کے پاس نہ تنخواہیں دینے کے وسائل ہیں نہ ہی واجبات ادا کرنے کے۔ اسی لیے ای سی سی سے 30.2 ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری مانگی گئی جس میں ملازمین کے حقوق، تنخواہیں، بیواؤں کے لیے فنڈز، ریٹائرمنٹ واجبات، آپریشنل اخراجات اور 2 ارب روپے کے قریب وینڈر واجبات شامل ہیں۔
ای سی سی نے وزارت کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ ادارے کے اثاثے موجودہ مالی سال میں ہی فروخت کیے جائیں اور فنڈز کی فراہمی ان اثاثوں کی نیلامی سے مشروط ہو۔ ساتھ ہی چینی سبسڈی کے لیے رکھی گئی رقم کو آہستہ آہستہ اس مقصد کے لیے ری اپروپری ایٹ کیا جائے۔ کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو بھی ہدایت دی کہ نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 کے تحت فوری قانونی اقدامات دیکھے جائیں تاکہ جائیدادوں کی فروخت میں رکاوٹیں نہ رہیں۔
