حکومت پاکستان نے ملک میں نان کیش لین دین اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے تاجروں کو کیش لیس ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے "ایم ڈی آر سبسڈی اسکیم” تیار کی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس سبسڈی کا مقصد یہ ہے کہ تاجروں پر بوجھ کم ہو اور وہ آسانی کے ساتھ راست (Raast) کیو آر کوڈ پرسن ٹو مرچنٹ (P2M) ادائیگیوں کو اپنائیں۔ اس سلسلے میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومتی سبسڈی براہِ راست ان بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) کو دی جائے گی جو اسٹیٹ بینک کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
یہ سبسڈی فی لین دین کی مالیت کا 0.5 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 100 روپے تک ہوگی، جبکہ متعلقہ مالیاتی ادارے اضافی طور پر تاجروں سے صرف 0.25 فیصد تک چارج وصول کر سکیں گے تاکہ انہیں آن بورڈ کرنے اور سروس فراہم کرنے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس سکیم سے سالانہ تقریباً 700 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل ہونے کی توقع ہے، جو ملک میں مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو بہتر بنائے گی اور کیش پر انحصار کم کرے گی۔ اس مقصد کے لیے رواں مالی سال میں ساڑھے تین ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی منظوری مانگی گئی ہے۔
وزارت خزانہ نے مزید وضاحت کی کہ وزیراعظم کی زیرصدارت "اسٹیئرنگ کمیٹی برائے کیش لیس اکانومی” کے اجلاس میں 3 جولائی 2025 کو یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز میں کمی کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ پوائنٹ آف سیلز مشینیں، کیو آر ٹولز اور دیگر آلات درآمد کرنے پر رعایت دی جائے تاکہ تاجر بآسانی ان سہولیات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
اسی اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت فی ٹرانزیکشن 0.5 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 200 روپے تک سبسڈی ادا کرے، جس سے اندازاً ساڑھے دو ارب روپے کا سالانہ بوجھ پڑتا۔ تاہم بعد میں 14 جولائی 2025 کو ہونے والے ایک اور اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ اس رقم کو بڑھا کر ساڑھے تین ارب روپے سالانہ کر دیا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر تاجر راست کیو آر سسٹم کو اپنائیں۔
ای سی سی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم نے اپنے ڈلیوری یونٹ (PMDU) کے پورٹل پر اس سبسڈی اسکیم کو بطور ٹاسک شامل کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اسکیم کا ڈھانچہ مکمل کر لیا ہے اور اب ای سی سی سے باضابطہ منظوری لی گئی ہے کہ رواں مالی سال کے لیے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کے تحت ساڑھے تین ارب روپے جاری کیے جائیں۔
وزارت خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ترویج نہ صرف صارفین اور تاجروں کو سہولت فراہم کرے گی بلکہ ملکی معیشت میں شفافیت لانے، غیر دستاویزی معیشت کو کم کرنے اور مالی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ اس سبسڈی کی مدد سے چھوٹے بڑے تاجر کیش لیس لین دین کی طرف آئیں گے اور صارفین کو بھی کم لاگت پر ادائیگی کی سہولت میسر ہوگی۔
ای سی سی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس اسکیم کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کرے اور مالی سال کے اختتام پر ایک جامع رپورٹ تیار کر کے پیش کرے جس میں بتایا جائے کہ کتنے تاجر اس نظام میں شامل ہوئے، صارفین کی دلچسپی کس حد تک بڑھی اور لین دین کے حجم میں کس قدر اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آئندہ سالوں میں اسکیم میں مزید تبدیلیاں یا بہتری لائی جائے یا اسے جاری رکھا جائے۔
نے سبسڈی کے ذریعے راست کیو آر ادائیگیوں کو فروغ دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ پاکستان کو کیش لیس اکانومی کی طرف لے جایا جا سکے۔
