پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑے ادارے چین کے شہر شنگھائی میں جاری عالمی تجارتی نمائش انٹر ٹیکسٹائل شنگھائی اپیرل فیبرکس – آٹم ایڈیشن 2025 میں شریک ہوئے، جو 2 سے 4 ستمبر تک جاری رہا۔ اس شرکت نے نہ صرف پاکستان کے شعبہ ٹیکسٹائل کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنایا ہے بلکہ صنعت میں تیزی سے ابھرتے ہوئے اعتماد کو بھی اجاگر کیا ہے۔
گزشتہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برآمدات 7.39 فیصد بڑھ کر 16.655 ارب ڈالر سے بڑھتے ہوئے 17.887 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ صرف جولائی میں ہی اس شعبے نے زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے 32 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کروایا، جبکہ جون کے مہینے میں سال بہ سال بنیاد پر 7.59 فیصد ترقی سامنے آئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شعبہ نہ صرف بحالی کے مرحلے سے گزر رہا ہے بلکہ ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد بھی حاصل کر چکا ہے۔
نمائش میں شریک پاکستانی کمپنیاں اپنی موجودگی کو عالمی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستان کے قونصل جنرل شنگھائی، شہزاد احمد خان کے مطابق، اس پلیٹ فارم کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اداروں کو چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعاون نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی کپڑوں (man-made fabrics) کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ اون، کپاس اور دیگر خصوصی مٹیریل سے اعلیٰ معیار کے ملبوسات بنانے میں بھی مشترکہ منصوبے سامنے لا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان اس قسم کی شراکت داری دنیا کے دیگر منڈیوں میں مشترکہ رسائی کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں، "ایسی نمائشیں پاکستانی کمپنیوں کو اپنی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں جگہ بنانے کے لیے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کا موقع دیتی ہیں۔”
نمائش میں شامل کمپنیوں میں سے ایک نمایاں نام ازگارڈ نائن ہے، جو پائیدار ڈینم فیبرک اور ملبوسات تیار کرتی ہے اور انہیں دنیا بھر میں برآمد کرتی ہے۔ کمپنی کی ڈپٹی جنرل مینیجر ثناء ارشد نے اپنے بیان میں پرجوش انداز اپناتے ہوئے کہا کہ پچھلی بہاریہ ایڈیشن میں شرکت کے مثبت نتائج دیکھنے کو ملے تھے اور موجودہ ایڈیشن میں توقعات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمیں یقین ہے کہ اس بار زیادہ مواقع ملیں گے اور جدت و تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔”
