امریکہ اور جاپان کے درمیان کئی ماہ سے جاری تجارتی مذاکرات بالآخر ایک معاہدے کی شکل اختیار کر گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کر کے جاپانی گاڑیوں اور کچھ دیگر مصنوعات پر عائد بھاری ٹیرف کم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی جاپان نے امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی باضابطہ طور پر دہرا دیا۔
اس معاہدے کے تحت جاپانی گاڑیوں پر موجودہ 27.5 فیصد ڈیوٹی گھٹا کر 15 فیصد کر دی گئی ہے، جو حکم نامہ شائع ہونے کے سات دن بعد نافذ ہو گی۔ ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ گوشت جیسی چیزوں پر پہلے سے موجود زیادہ شرح والے ٹیکس کے ساتھ یہ نیا ٹیکس نہیں جڑے گا۔ اس کے برعکس جن اشیاء پر پہلے 15 فیصد سے کم ڈیوٹی لگتی تھی، ان پر اب سیدھا 15 فیصد لاگو ہو گا۔ ایک اور اہم سہولت یہ دی گئی ہے کہ کمرشل ہوائی جہاز اور ان کے پرزے کسی بھی ڈیوٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گے۔ اس ریلیف کا اطلاق 7 اگست سے پچھلے دنوں کی درآمدات پر بھی ہو گا۔
کار ساز کمپنیوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ٹویوٹا، جس نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ بھاری ٹیرف سے اسے تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، اب مطمئن ہے کہ نئی پالیسی صورتحال کو واضح کر دے گی۔ جمعہ کے دن جاپانی آٹو کمپنیوں کے شیئرز میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنیوں کے حصص کچھ نیچے گئے کیونکہ ان کا معاہدہ ابھی تک امریکی دستخط کا منتظر ہے۔
کاروں کے علاوہ، اس ڈیل میں امریکی زرعی اجناس کی سالانہ 8 ارب ڈالر مالیت کی خریداری، 100 بوئنگ طیاروں کی خرید اور امریکہ میں جاپان کی دفاعی اخراجات کو 14 ارب سے بڑھا کر 17 ارب ڈالر سالانہ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ جاپان امریکی چاولوں کی خرید 75 فیصد تک بڑھائے گا اور مکئی، سویا بین، کھاد اور بایو فیول جیسی اشیاء بھی بڑی مقدار میں خریدے گا۔
جاپانی چیف نیگوشی ایٹر ریوسی اکازاوا، جو مذاکرات کے لیے دس بار امریکہ گئے، نے اس معاہدے کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان امریکہ پر زور دیتا رہے گا کہ فارماسیوٹیکل اور چِپ سیکٹر میں اسے سب سے کم ٹیرف دینے کا وعدہ پورا کیا جائے۔
یہ معاہدہ جاپان کے وزیراعظم شیگرو ایشیبا کے لیے ایک نازک وقت پر سامنے آیا ہے۔ ان کی جماعت نے حالیہ انتخابات میں شکست کھائی ہے اور آئندہ ہفتے ان کے خلاف قیادت کی تبدیلی کی اندرونی ووٹنگ ہونے والی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ تجارتی کامیابی ان کے حق میں دلیل فراہم کرتی ہے، لیکن امکان یہی ہے کہ پارٹی کے اندرونی دباؤ کے باعث انہیں اپنی وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
