امریکہ میں روزگار کے مواقع اگست کے مہینے میں نمایاں حد تک کم ہو گئے اور بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 4.3 فیصد تک جا پہنچی جو تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ صورتحال واضح طور پر اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ امریکی لیبر مارکیٹ مشکلات کا شکار ہے اور اسی لیے ماہرین کو یقین ہے کہ فیڈرل ریزرو اب رواں ماہ سود کی شرح میں کمی پر مجبور ہوگا۔
اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں نوکریوں کی رفتار مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ جولائی میں اگرچہ 79 ہزار نوکریاں دی گئیں، مگر اگست میں یہ تعداد صرف 22 ہزار تک محدود رہی۔ جون میں تو حالات مزید خراب رہے جب اندازوں کے برعکس ملازمتوں میں 13 ہزار کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ چار سال سے زیادہ عرصے بعد ملازمتوں کی مجموعی تعداد گھٹی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سست روی کے پیچھے بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسی ہے، جس میں امپورٹ پر بھاری ٹیکس (ٹیرِف)، تارکین وطن پر سختیاں اور سرکاری ملازمین کی بڑے پیمانے پر برخاستگیاں شامل ہیں۔ کئی کمپنیوں نے بھرتیاں روک دی ہیں اور سرمایہ کاری میں بھی کمی کی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے سابقہ اقدامات پر بھی تنقید ہوئی۔ صدر ٹرمپ مسلسل چیئرمین جیروم پاول پر الزام لگاتے رہے کہ انہوں نے سود کی شرح بروقت کم نہیں کی۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پھر یہی لکھا کہ “جیروم ہمیشہ دیر کرتے ہیں، اور اب بھی دیر ہو چکی ہے۔”
اعداد و شمار میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اگست میں صحت کے شعبے میں 31 ہزار نئی نوکریاں ضرور دی گئیں، لیکن یہ بھی پچھلے 12 ماہ کی اوسط سے کم تھیں۔ سماجی بہبود کے اداروں میں بھی 16 ہزار نئی آسامیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم دوسری جانب سرکاری ملازمتوں میں 15 ہزار کی کمی ہوئی اور رواں سال جنوری سے اب تک کل 97 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں۔
صنعتی پیداوار سے وابستہ نوکریاں بھی چوتھے مہینے مسلسل کم ہوئیں۔ اسی طرح تعمیرات، مالیاتی ادارے، معلوماتی ٹیکنالوجی، تھوک کی تجارت اور پروفیشنل سروسز کے شعبے میں بھی ملازمتیں گھٹیں۔
اگرچہ اجرتوں میں معمولی بہتری دیکھی گئی اور اوسطاً فی گھنٹہ تنخواہ 0.3 فیصد بڑھی، لیکن کام کے گھنٹے کم ہونے کی وجہ سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار مزید سست پڑ سکتی ہے۔ سال بہ سال تنخواہوں میں بھی اضافہ 3.7 فیصد رہا جو پچھلے مہینے کے 3.9 فیصد سے کم ہے۔
مزید یہ کہ بیروزگاری کی اوسط مدت بھی بڑھ کر 24.5 ہفتے تک پہنچ گئی جو اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یعنی اب بے روزگار افراد کو دوبارہ ملازمت ملنے میں پہلے سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ مستقل طور پر نوکریاں کھونے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبر مارکیٹ کی یہ کمزوری معیشت کو کساد بازاری کے قریب لے جا رہی ہے۔ ایک بڑے بینک کے ماہر معاشیات نے کہا کہ “کام کے اوقات میں کمی اور بھرتیوں کی سست رفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معیشت کی رفتار رک گئی ہے۔”
اب تمام نظریں فیڈرل ریزرو کے ستمبر 16-17 کے اجلاس پر ہیں، جہاں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شرح سود میں چوتھائی پوائنٹ کی کمی کی جائے گی اور سال کے باقی اجلاسوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
اس صورتحال کے اثرات مالی منڈیوں پر بھی دیکھے گئے۔ وال اسٹریٹ کے شیئرز میں کمی ہوئی، ڈالر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہوا اور امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ بھی گر گئی۔
