اسلام آباد میں جاری ہونے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنے پانچ قریبی اور بااعتماد دوست ممالک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت تقریباً 29 ارب ڈالرز ہوگی، جسے موجودہ مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی منصوبے کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے پلیٹ فارم کے تحت آئے گی، جس کے ذریعے پاکستان دوست ممالک کے ساتھ حکومتی اور تجارتی سطح پر روابط کو مضبوط بنا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے بڑے حصے کا تعلق توانائی، زراعت، انفرا اسٹرکچر اور دیگر پیداواری شعبوں سے ہوگا۔ توانائی کے میدان میں خاص طور پر بجلی گھروں، ریفائنریوں، تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور قابل تجدید توانائی منصوبوں میں سرمایہ لگایا جائے گا۔ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بیجوں کی بہتری، آبپاشی کے نظام کی اپ گریڈیشن اور زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچانے کے منصوبے شامل ہوں گے۔ اسی طرح انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں ہائی ویز، ریل پراجیکٹس، بندرگاہوں اور صنعتی زونز کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق سب سے زیادہ سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے متوقع ہے، جہاں دونوں ممالک کی طرف سے 10، 10 ارب ڈالرز تک سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے 5 ارب ڈالرز جبکہ قطر اور آذربائیجان کی جانب سے بھی نمایاں سرمایہ کاری کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ قطر بنیادی طور پر توانائی اور ایل این جی کے منصوبوں پر توجہ دے گا جبکہ آذربائیجان توانائی کے ساتھ ساتھ تجارتی تعاون اور ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر پر سرمایہ لگانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر یہ سرمایہ کاری وقت پر آ گئی تو ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور مالی خسارہ کم کرنے میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے ذریعے آنے والی یہ سرمایہ کاری پاکستان کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس منصوبے کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ سرمایہ کار ممالک کے لیے شفافیت اور اعتماد کی فضا قائم رہے اور پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکے۔ حکومتی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اس سرمایہ کاری کی بدولت مستقبل میں پاکستان خطے میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن سکتا ہے، خصوصاً توانائی اور زراعت کے شعبے میں۔
کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت مؤثر پالیسی فریم ورک فراہم کرے اور سرمایہ کاروں کو قانونی اور سیکیورٹی تحفظ دیا جائے تو اس سرمایہ کاری کی مالیت مستقبل میں 29 ارب ڈالرز سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ یوں پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے نقشے پر نمایاں حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
