جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان 350 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے پر حتمی دستخط تاخیر کا شکار ہیں۔ اس تاخیر کی بنیادی وجہ زرمبادلہ کی منڈی سے متعلق پیچیدگیاں بتائی جا رہی ہیں۔ صدارتی دفتر کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق سیول نے باضابطہ طور پر واشنگٹن سے مدد کی درخواست کی ہے تاکہ ایسی کوئی حکمت عملی بنائی جا سکے جو ڈالر اور وون کی ملکی مارکیٹ پر ممکنہ منفی اثرات کو کم کر سکے۔
یہ صورتحال جاپان سے خاصی مختلف ہے۔ جاپان نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ 550 ارب ڈالر کا معاہدہ مکمل کیا ہے، لیکن اس کے پاس ایسے معاشی ڈھانچے موجود ہیں جو کسی بڑے سرمایہ کاری پیکج کے اثرات کو سنبھال سکتے ہیں۔ صدارتی پالیسی سیکریٹری کم یونگ بوم نے وضاحت کی کہ جاپانی ین عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ کرنسی ہے، جاپان کے پاس کرنسی تبادلے کے خصوصی انتظامات ہیں اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر جنوبی کوریا کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ یہی عوامل جاپان کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باوجود اپنی منڈیوں کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
کم یونگ بوم نے مزید کہا کہ بظاہر جاپان اور جنوبی کوریا دونوں کے تجارتی منافعے میں زیادہ فرق نہیں، لیکن اصل فرق معاشی حالات اور زرمبادلہ کی صورتحال میں ہے۔ سیول کو سب سے بڑی تشویش اس بات کی ہے کہ کہیں امریکہ میں سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ ملکی کرنسی مارکیٹ کو غیر متوازن نہ کر دے۔ جب تک اس خدشے کو حل کرنے کا کوئی مؤثر طریقہ نہیں ملتا، جولائی میں طے پانے والا معاہدہ کاغذ پر حتمی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔
