دنیا کے سب سے بڑے خودمختار سرمایہ کاری اداروں میں شامل سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) تیزی سے ترقی کے سفر پر گامزن ہے اور اب وہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس نئے روڈ میپ کا ہدف نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دینا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے منافع کو بڑھانا، عالمی منڈیوں میں اثر و رسوخ کو وسعت دینا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو اگلی دہائیوں تک پھیلانا بھی شامل ہے۔
گورنر یاسر الرمیان کے مطابق، آئندہ چند مہینوں میں PIF کی نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا جو 2030 کے بعد 2040 اور اس سے آگے تک کے اہداف پر محیط ہوگی۔ انہوں نے واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ فنڈ کا زور اب بھی زیادہ تر سعودی عرب پر ہی مرکوز ہے۔ ان کے مطابق، مجموعی سرمائے کا تقریباً 80 فیصد حصہ مقامی منصوبوں پر لگایا جا رہا ہے، جب کہ باقی سرمایہ بیرونِ ملک استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سرمایہ دوبارہ سعودی عرب میں واپس لایا جا سکے۔
فنڈ کا مقصد ہے کہ ملک میں نئی صنعتوں کو فروغ دیا جائے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، اور سعودی مصنوعات کے استعمال میں اضافہ ہو تاکہ معیشت کو زیادہ خودکفیل بنایا جا سکے۔ الرمیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی مواد میں اضافے کا سب سے مؤثر ذریعہ یہ ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں لایا جائے۔
اس وقت PIF نہ صرف نیوم جیسے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے بلکہ نجی شعبے کو بھی زیادہ فعال کردار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ادارہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا مرکزی ستون ہے۔ فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ 2025 کے بعد ہر سال 70 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے جائیں گے تاکہ معیشت میں تیز رفتار ترقی برقرار رہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق، PIF آنے والے برسوں میں بھی کم از کم 40 ارب ڈالر سالانہ مقامی سرمایہ کاری جاری رکھے گا، جس سے سعودی معیشت کی رفتار مثبت اور مضبوط رہے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خام تیل کی قیمتوں میں کمی حکومت کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
PIF اب صرف حکومتی سرمایہ کاری پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنی فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے رقوم اکٹھا کرنا بھی شامل ہے تاکہ حکومتی امداد سے ہٹ کر خود مختار مالیاتی بنیاد قائم کی جا سکے۔
2024 کے اختتام تک PIF کے زیرِ انتظام اثاثے بڑھ کر 913 ارب ڈالر تک جا پہنچے، اور فنڈ نے 2030 تک اس ہدف کو 2.67 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ شرحِ نمو فنڈ کو دنیا کے سب سے بڑے ریاستی سرمایہ کار اداروں میں سے ایک کے طور پر مزید نمایاں کرتی ہے۔
یاسر الرمیان کے مطابق، 2015 کے بعد سے فنڈ کی اندرونی شرحِ منافع تقریباً 7.2 فیصد رہی ہے، جب کہ اس سے پہلے یہ محض 2 فیصد سے بھی کم تھی۔ فنڈ کے پاس اس وقت تقریباً 3 ہزار ملازمین ہیں اور اس کے دفاتر ریاض، نیویارک، ہانگ کانگ، بیجنگ اور پیرس میں قائم ہیں۔ آئندہ مرحلے میں مصر، اردن، بحرین اور عمان میں بھی علاقائی دفاتر کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں براہِ راست موجودگی مضبوط ہو سکے۔
