سعودی عرب کی معیشت سال 2025 کی دوسری سہ ماہی میں نمایاں بہتری کے ساتھ سامنے آئی ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ غیر تیل شعبوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جنہوں نے گزشتہ برس کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ نمو ظاہر کی۔
اعداد و شمار کے مطابق بجلی، گیس اور پانی جیسے بنیادی انفراسٹرکچر سے وابستہ شعبے سب سے آگے رہے، اس کے بعد مالیاتی خدمات، انشورنس اور کاروباری سرگرمیوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ تیل اب بھی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، لیکن غیر تیل شعبوں کی بڑھتی ہوئی شراکت Vision 2030 کے تحت سعودی عرب کی حکمتِ عملی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔
تیل کی سرگرمیوں نے بھی دوسری سہ ماہی میں مجموعی طور پر 3.8 فیصد اضافہ دکھایا جبکہ سرکاری سرگرمیوں میں 0.6 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں تیل کی سرگرمیوں میں 5.6 فیصد کا اضافہ ہوا جو ایک نمایاں بہتری سمجھی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اوپیک پلس (OPEC+) کے رکن ممالک نے اتوار کے روز ایک ورچوئل اجلاس میں پیداوار میں اضافے پر اتفاق کیا۔ نئے معاہدے کے تحت اکتوبر سے تیل کی پیداوار میں روزانہ 137,000 بیرل کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اضافہ گذشتہ مہینوں کے مقابلے میں خاصا کم ہے، کیونکہ اگست اور ستمبر میں اضافہ اوسطاً 555,000 بیرل روزانہ تھا، جبکہ جون اور جولائی میں 411,000 بیرل فی دن اضافہ ہوا تھا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس برس تقریباً 15 فیصد نیچے آئی ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر گرنے سے بچی ہوئی ہیں اور اس وقت اوسطاً 65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ روس اور ایران پر مغربی پابندیاں ہیں، جو سپلائی کو محدود رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو سعودی معیشت پر دباؤ بڑھے گا کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق سعودی عرب کو اپنے بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے کم از کم 90 ڈالر فی بیرل کی قیمت درکار ہے۔
سعودی حکومت پہلے ہی "ویژن 2030” پروگرام پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے، جس کے تحت تیل پر انحصار کم کرکے سیاحت، کھیلوں، تفریحی صنعت اور دیگر متبادل شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنے بلکہ عالمی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی ترتیب دیا گیا ہے۔
مالی محاذ پر سعودی عرب کو اس سال تقریباً 101 ارب ریال (27 ارب ڈالر) کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو داخلی سرمایہ کاری بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دینا ہوگا۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی ایک چیلنج ہے، لیکن غیر تیل شعبوں کی بڑھتی ہوئی کارکردگی یہ اشارہ دیتی ہے کہ سعودی عرب کی معیشت بتدریج اپنے روایتی انحصار سے نکل کر ایک متوازن اور متنوع ڈھانچے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
