امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے مواصلاتی ادارے ایکو اسٹار (EchoStar) کے ساتھ ایک بھاری بھرکم معاہدہ طے کر لیا ہے جس کی مالیت تقریباً 17 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس ڈیل کا بنیادی مقصد اسپیس ایکس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک اسٹارلنک (Starlink) کو مزید وسعت دینا ہے تاکہ مستقبل میں دنیا کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بھی براہِ راست موبائل نیٹ ورک فراہم کیا جا سکے۔
اس معاہدے میں ایکو اسٹار کے AWS-4 اور H-block اسپیکٹرم لائسنس شامل ہیں۔ معاہدے کی مالیت دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے: آدھی رقم یعنی تقریباً 8.5 ارب ڈالر نقد جبکہ اتنی ہی رقم اسپیس ایکس کے اسٹاک کی صورت میں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسپیس ایکس 2027 تک ایکو اسٹار کے قرضوں پر 2 ارب ڈالر کے قریب سود کی ادائیگی بھی کرے گا۔
اس ڈیل کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں کمپنیاں ایک طویل مدتی کمرشل پارٹنرشپ قائم کریں گی، جس کے تحت ایکو اسٹار کی سبسڈری بوسٹ موبائل (Boost Mobile) کے صارفین کو اسپیس ایکس کی آنے والی نئی سروس Starlink Direct-to-Cell تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے موبائل صارفین کو دور دراز علاقوں میں بھی سیٹلائٹ کے ذریعے سگنلز مل سکیں گے، جہاں عام سیلولر نیٹ ورک پہنچنا مشکل ہے۔
اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی اسٹاک مارکیٹ نے مثبت ردعمل دیا اور ایکو اسٹار کے شیئرز کی قیمت مارکیٹ کھلنے سے قبل ہی 23 فیصد تک بڑھ گئی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک ماہ قبل ہی امریکی ٹیلی کام کمپنی AT&T نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایکو اسٹار سے تقریباً 23 ارب ڈالر کے عوض وائرلیس اسپیکٹرم لائسنس خریدنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کا مقصد اپنے 5G نیٹ ورک کو مزید وسعت دینا اور لو بینڈ و مڈ بینڈ کوریج کو مضبوط بنانا ہے۔
ایکو اسٹار کا کہنا ہے کہ یہ دونوں سودے (اسپیس ایکس اور AT&T کے ساتھ) امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی 5G ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیقات اور سوالات کو حل کرنے میں مدد دیں گے۔ کمپنی کے مطابق ان رقوم سے وہ اپنے قرضے بھی کم کرے گی جبکہ اس کی موجودہ سروسز جیسے ڈش ٹی وی (Dish TV)، سلِنگ (Sling) اور ہیوز نیٹ (HughesNet) حسبِ معمول چلتی رہیں گی اور صارفین کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔
یہ پیش رفت نہ صرف اسپیس ایکس کے عالمی اہداف کو تقویت دیتی ہے بلکہ امریکہ کی ٹیلی کام انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی مقابلے کی فضا کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں مستقبل قریب میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور 5G نیٹ ورک کا امتزاج ایک نئی ڈیجیٹل دنیا تخلیق کر سکتا ہے۔
