بلوچستان کے ضلع چاغی میں موجود ریکو ڈیک تانبے اور سونے کا منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل سمجھا جا رہا ہے جو ملکی معیشت کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ یہ منصوبہ کئی دہائیوں کی تاخیر اور مختلف قانونی رکاوٹوں کے بعد اب عملی طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے کو رواں سال ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے آغاز تک فنانشل کلوز ملنے کی امید ہے، جو کسی بھی بڑے سرمایہ کاری منصوبے کے لیے ایک اہم سنگِ بنیاد ہوتا ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق ریکو ڈیک منصوبے کی لاگت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی لیکن حالیہ فیصلوں کے بعد یہ لاگت بڑھ کر 7.48 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یعنی اس میں تقریباً 715 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں عالمی سطح پر مہنگائی، کموڈٹی مارکیٹ میں قیمتوں کا مسلسل اتار چڑھاؤ، اضافی حفاظتی اقدامات اور ہنگامی انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ قرض فراہم کرنے والے اداروں نے بھی منصوبے کی مالیاتی جانچ پڑتال کے دوران انہی عوامل کو بنیاد بنا کر لاگت میں اضافہ کرنے پر زور دیا۔
اس منصوبے کی سب سے بڑی اہمیت اس کے متوقع منافع میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکو ڈیک اگلے 37 برسوں میں تقریباً 74 ارب ڈالر کا فری کیش فلو پیدا کرے گا۔ یہ آمدن پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گی اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا جہاں نہ صرف روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں اور اسپتالوں کی سہولتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
اس منصوبے میں پاکستان کی تین بڑی سرکاری کمپنیاں بھی شریک ہیں جن میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (GHPL) شامل ہیں۔ ان اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور جنرل اجلاسوں نے لاگت میں اضافے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
ریکو ڈیک سے نکلنے والا تانبہ اور سونا عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے لیے ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی پیداوار 2028 یا 2029 میں شروع ہو جائے گی۔ اس سے قبل ساری توانائی منصوبے کی تعمیر، انفراسٹرکچر، جدید مشینری کی تنصیب اور ماہر افرادی قوت کی تربیت پر صرف کی جائے گی۔
یہ منصوبہ اگر بروقت اور شفافیت کے ساتھ مکمل ہوا تو پاکستان کے لیے معاشی طور پر انقلاب کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔ البتہ ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم رکھنے، مقامی لوگوں کو برابر کا حصہ دینے اور سیکیورٹی انتظامات پر خاص توجہ دینا ہوگی تاکہ یہ منصوبہ کسی تنازعے یا عوامی مزاحمت کا شکار نہ ہو۔
ریکو ڈیک کو پاکستان کے مستقبل کے سب سے بڑے معدنی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے اور بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے چلتا رہا تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا بھر میں معدنی وسائل کے لحاظ سے ایک نمایاں حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
