پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک جامع اور طویل المدتی اصلاحاتی منصوبہ متعارف کرایا ہے جس کا بنیادی ہدف ملک کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹ کو موجودہ 10.24 فیصد سے بڑھا کر آئندہ برسوں میں 18 فیصد تک لے جانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ اکتوبر 2024 میں وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تیار کیا گیا تھا اور اب باضابطہ طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی جو رواں سال بڑھ کر 10.24 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو اصلاحاتی اقدامات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
منصوبے کے مطابق ایف بی آر کی شراکت 14 فیصد تک لے جائی جائے گی، صوبائی محصولات میں 3 فیصد کا اضافہ متوقع ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی ایک فیصد بڑھائی جائے گی۔ اس طرح مجموعی طور پر قومی سطح پر محصولات کا بوجھ 18 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ بڑے ٹیکس گیپس کو ختم کرنے اور شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے۔ اس عمل کے تحت ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کے لیے نئی ای سروسز اور سافٹ ویئرز متعارف کرائے گئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم مثال "فیس لیس کسٹمز اپریزل” ہے جس کے ذریعے بندرگاہوں پر مال کی کلیئرنس کا وقت کم ہو گیا، ڈیمریج چارجز کم ہوئے اور صرف ایک سال میں کسٹمز ریونیو فی جی ڈی کی بنیاد پر 17.3 فیصد بڑھا ہے۔
اصلاحات کا ایک اور اہم پہلو انسانی وسائل کو مضبوط بنانا ہے۔ ایف بی آر تقریباً 1600 نئے آڈیٹرز بھرتی کر رہا ہے جنہیں بین الاقوامی سطح کی جامعات میں تربیت دی جائے گی تاکہ وہ جدید کارپوریٹ اداروں کے معیار کے مطابق کام کر سکیں۔ ان بھرتیوں میں ایمانداری اور شفافیت کو بنیادی شرط بنایا گیا ہے اور کارکردگی کی بنیاد پر افسران کو انعامات اور مراعات دینے کے لیے ایک نیا ریٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ کاروباری برادری کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے اور حالیہ اجلاس کی صدارت ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود نے کی۔ اس اجلاس میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، پاکستان بزنس کونسل اور دیگر بڑے کاروباری گروپس کے نمائندے شریک ہوئے۔ رکن ان لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے شرکاء کو تفصیل سے بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سختی سے نافذ کی گئی ان ای فورسمنٹ پالیسیز کے نتیجے میں 2024-25 کے دوران گزشتہ برس کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ محصولات اکٹھے کیے گئے ہیں۔
چیئرمین نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کراچی ایل ٹی او میں ایک نیا ڈویژن قائم کیا گیا ہے جہاں سینئر افسران براہِ راست کاروباری طبقے کی شکایات سنیں گے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ ایف بی آر، پی بی سی اور او آئی سی سی آئی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے جو ویلیوایشن رولنگز اور دیگر مسائل کے حل کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کرے۔
یہ اصلاحاتی منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنے مالیاتی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو اعتماد دلانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
