OPEC نے ستمبر 2025 کی اپنی ماہانہ رپورٹ میں عالمی تیل کی طلب کے اندازے ویسے کے ویسے ہی برقرار رکھے ہیں جیسا کہ پہلے تھا، یعنی اس سال اور آئندہ 2026 میں طلب میں نمایاں کمی یا اضافہ کرنے کا کوئی نیا اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے پہلے نصف میں دنیا کی معیشت نے ٹھوس کارکردگی دکھائی، اور وہی مثبت رجحان سال کے دوسرے نصف میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ، OPEC+، نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر سے اپنی پیداوار کے کوٹوں کو مزید بڑھائے گا۔ سعودی عرب اس فیصلے کے پیچھے خاص طور پر کھڑا ہے، اور اس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں اپنی قیمت اور حصہ دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔ اس اضافے کی مقدار تقریباً 137,000 بیرل روزانہ ہوگی، جو کہ گزشتہ بڑے تولیدی کمی کے مرحلے، جس کی پیمائش تقریباً 1.65 ملین بیرل روزانہ ہے، کے پیچھے لگائے جانے والے اقدامات کا حصہ ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگست 2025 میں OPEC+ نے خام تیل کی پیداوار میں 509,000 بیرل روزانہ کا اضافہ کیا، جو کہ پہلے کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں ایک متواتر کوشش ہے۔ روسی پیداوار بھی اگست میں تھوڑی سی بڑھی — تقریباً 50,000 بیرل روزانہ — تاہم یہ مقدار اس ماہ کے مقرر کردہ کوٹے سے تھوڑی کم رہی۔
مزید برآں، عالمی توانائی ادارہ (IEA) اور دیگر تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ تیل کی رسد (supply) طلب (demand) سے تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر 2025 کے آخری مہینوں اور 2026 میں۔ اگر عالمی طلب نمو سست ہو جائے تو ذخائر (stocks/inventories) میں اضافے کا امکان ہے، جس سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہ رپورٹ اور نئے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ OPEC+ قیمت کم ہونے کے خطرے کے باوجود پیداوار بڑھانے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے، شاید مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کی کوشش میں۔
دوسری طرف، عالمی معیشت اگر مستحکم رہتی ہے تو تیل کی طلب بھی بہتر رہے گی، مگر اگر اقتصادی سست روی یا دیگر عالمی چیلنجز سامنے آئیں تو رسد کا زیادتی قیمتوں میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
