عالمی سطح پر دولت مند شخصیات کے درمیان سبقت کی دوڑ ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس دوڑ میں ایک نیا موڑ آیا جب امریکی کاروباری شخصیت اور اوریکل کارپوریشن کے شریک بانی لیری ایلیسن نے اچانک ہی اس فہرست میں ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب اسٹاک مارکیٹ کے کھلتے ہی اوریکل کے حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی اور چند منٹوں کے اندر اندر ان کی مالیت میں کھربوں روپے کا اضافہ ہو گیا۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کئی برسوں سے دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز اپنے پاس رکھتے آئے ہیں۔ مگر اسٹاک مارکیٹ کی غیر متوقع حرکت نے لمحاتی طور پر یہ تاج ایلیسن کے سر پر رکھ دیا۔ تاہم دن کے اختتام پر حالات پلٹ گئے اور اوریکل کے حصص میں کچھ کمی آنے کے بعد بلومبرگ کے مطابق مسک دوبارہ سرفہرست آ گئے۔
یہ مقابلہ اس قدر باریک سطح پر ہے کہ مسک اور ایلیسن کے درمیان فرق صرف ایک ارب ڈالر کا ہے۔ اگر اعداد کو سمجھنے کے لیے مثال دی جائے تو یہ دولت اتنی ہے کہ پانچ ملین امریکی خاندان پورے ایک سال بغیر کام کیے اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ یا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پورا جنوبی افریقہ ایک سال کے لیے اپنی معیشت روک دے تو بھی یہ دولت اس خسارے کو پورا کر سکتی ہے۔
اوریکل کی جانب سے حالیہ جاری ہونے والی شاندار مالیاتی رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کمپنی نے مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں اربوں ڈالر کے نئے معاہدے کیے ہیں۔ ان میں نمایاں نام اوپن اے آئی، میٹا، این ویڈیا اور مسک کی اپنی کمپنی xAI بھی شامل ہیں۔ اوریکل نے اعلان کیا کہ صرف رواں مالی سال میں اس کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر بزنس کی آمدنی میں 77 فیصد اضافہ ہوگا اور اگلے چار برسوں میں یہ آمدنی 144 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
ایلیسن نے سرمایہ کاروں سے گفتگو میں کہا کہ اوریکل صرف کمپیوٹنگ سینٹرز سے پیسہ نہیں کمانے والی بلکہ یہ روزمرہ کے کاروباری شعبوں میں بھی انقلاب برپا کرے گی۔ ان کے مطابق یہ سسٹمز روبوٹس کو فیکٹریوں میں چلائیں گے، لیبارٹریز میں نئی دوائیں ڈیزائن کریں گے، مالیاتی مارکیٹوں میں فیصلے لیں گے اور کمپنیوں میں قانونی و تجارتی معاملات کو خودکار بنائیں گے۔ ان کے الفاظ میں: “مصنوعی ذہانت سب کچھ بدل دیتی ہے۔”
اس کے برعکس، ایلون مسک کو اپنی کمپنی ٹیسلا میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سال 2025 کے آغاز سے اب تک ٹیسلا کے حصص میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یورپ میں کمپنی کی فروخت 40 فیصد تک گر چکی ہے، جو مسلسل ساتویں ماہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسک کی سیاسی سرگرمیاں ہیں؛ انہوں نے یورپ میں دائیں بازو کے سخت گیر سیاست دانوں کی کھلے عام حمایت کی جس پر بڑی تعداد میں صارفین نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گاڑیاں خریدنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ میں بھی کچھ خریدار ان کے ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات کی وجہ سے ٹیسلا شورومز سے دور ہو گئے ہیں۔
مسک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹیسلا کا مستقبل صرف الیکٹرک کاروں پر منحصر نہیں بلکہ روبوٹ اور خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر بھی ہے۔ لیکن تاحال سرمایہ کار ان کے دعوؤں سے مطمئن دکھائی نہیں دے رہے۔ ٹیسلا کے حصص معمولی اضافے کے بعد 347 ڈالر پر بند ہوئے جبکہ اوریکل کے حصص 36 فیصد بڑھ کر 328 ڈالر پر بند ہوئے، جو کمپنی کی تاریخ کے نمایاں ترین اضافوں میں شمار ہوتا ہے۔
بلومبرگ کی فہرست کے مطابق بدھ کے اختتام پر مسک کی دولت 384.2 ارب ڈالر اور ایلیسن کی دولت 383.2 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ گو کہ مسک معمولی برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر واپس آ گئے، لیکن اوریکل کے حصص نے ثابت کیا کہ ایلیسن اب ایک بار پھر حقیقی حریف کے طور پر سامنے آ گئے ہیں۔
یہ پورا معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی حرکات کس طرح چند گھنٹوں میں دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست کو الٹ پلٹ کر سکتی ہیں۔ ایلیسن کی بڑھتی ہوئی دولت مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ مسک کے لیے یہ لمحہ یاد دہانی ہے کہ سیاسی وابستگیاں اور کاروباری فیصلے دولت اور شہرت دونوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ دنیا بھر کے ناظرین اور سرمایہ کار اس دلچسپ دوڑ کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، اور آنے والے مہینوں میں یہ مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
