جدہ کے شاندار سپر ڈوم میں سعودی عرب جیولری ایکسپوزیشن 2025 (SAJEX 2025) کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ یہ نمائش اپنی وسعت اور عالمی شمولیت کے اعتبار سے اس خطے کی سب سے بڑی تقریبات میں شمار کی جا رہی ہے۔ تقریب میں بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے دو سو سے زائد نمائندہ اداروں اور نمائش کنندگان نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ ان اداروں نے قیمتی زیورات، نایاب جواہرات، منفرد نگینوں اور جدید ڈیزائننگ کے نمونے پیش کیے جو دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
یہ ایونٹ محض زیورات کی نمائش تک محدود نہیں بلکہ اسے دوستی اور تعاون کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا انعقاد جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (GJEPC) نے کیا، جسے جدہ میں بھارتی قونصلیٹ، ریاض میں بھارتی سفارت خانہ، انویسٹ سعودی، اور جدہ و مکہ کے چیمبرز آف کامرس کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ اس طرح یہ نمائش دونوں ملکوں کی سرکاری اور نجی سطح پر مشترکہ کوششوں کا عملی مظہر قرار پائی۔
نمائش کے دوران مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جیولری ایکسپورٹ کونسل آف انڈیا کے چیئرمین شری کیرت بھنسالی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ زیورات اور جواہرات کی صنعت بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک قدرتی پل ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کو ہنرمند کاریگروں، جدید ڈیزائن اور بڑے پیمانے پر پیداواری سہولتوں میں برتری حاصل ہے، جبکہ سعودی عرب سرمایہ کاری، مارکیٹ اور خریداروں کے اعتبار سے ایک مضبوط شراکت دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کا یہ تعاون نہ صرف تجارتی سطح پر بلکہ ثقافتی ہم آہنگی میں بھی اضافہ کرے گا۔
سعودی وزارتِ سرمایہ کاری کے نمائندے خالد الشدی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ SAJEX 2025 بالکل صحیح وقت پر منعقد کیا گیا ہے۔ دنیا اس وقت تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو متنوع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیورات کی صنعت سرمایہ کاروں کے لیے ایک شاندار موقع فراہم کرتی ہے، اور بھارت جیسے بڑے پارٹنر کے ساتھ مل کر یہ شعبہ نئی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
بھارتی سفیر ڈاکٹر سہیل اعجاز خان نے اپنے کلیدی خطاب میں دونوں معیشتوں کے درمیان "تکمیلی خصوصیات” پر روشنی ڈالی۔ ان کے بقول بھارت دنیا کے بڑے پیداواری مراکز میں سے ایک ہے، جبکہ سعودی عرب خطے کی سب سے بڑی مارکیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کا قیام بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے، اور جیولری ایکسپو جیسے ایونٹس اس تعلق کو عملی شکل دے کر مزید مضبوط کریں گے۔
بھارتی قونصل جنرل شری فہد احمد خان سوری نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کی نمائشیں صرف تجارتی لین دین تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ یہ صنعت سے صنعت کے درمیان براہ راست تعلقات قائم کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے ایونٹس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
تقریب کے دوران بھارتی وزیرِ تجارت و صنعت شری پیوش گوئل کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ انہوں نے SAJEX 2025 کے کامیاب انعقاد پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف موجودہ تعلقات کو فروغ دیتی ہیں بلکہ مستقبل میں طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد بھی رکھتی ہیں۔
نمائش کے ہالز میں جہاں ایک طرف دنیا بھر سے لائے گئے انمول جواہرات اور انوکھے ڈیزائن رکھے گئے تھے، وہیں کاروباری افراد، سرمایہ کار اور صنعت کار آپس میں ملاقاتیں کرتے اور نئے منصوبوں پر بات کرتے دکھائی دیے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ SAJEX صرف ایک نمائش نہیں بلکہ کاروباری مواقعوں کے دروازے کھولنے والی ایک بڑی اقتصادی سرگرمی ہے۔
اس موقع پر مبصرین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات پہلے ہی توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مضبوط ہیں، اور اب زیورات اور جواہرات کی صنعت ان تعلقات میں ایک نئی پرت کا اضافہ کرے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں پچھلے چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور یہ نمائش اس رجحان کو مزید تقویت دے گی۔
سعودی عرب کی جانب سے وژن 2030 کے تحت جس طرح معیشت کو متنوع بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان میں زیورات کی صنعت کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ وہ شعبہ ہے جو نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی پرکشش ہے اور عالمی سطح پر اس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت اپنی کاریگری، ڈیزائن اور پیداوار کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک معتبر مقام رکھتا ہے۔ جب یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں تو نتیجہ لازمی طور پر ترقی، سرمایہ کاری اور باہمی خوشحالی کی صورت میں نکلتا ہے۔
SAJEX 2025 کو محض ایک تجارتی نمائش کہنا درست نہ ہوگا۔ یہ دراصل دو بڑے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات، اعتماد، اور مشترکہ مستقبل کا عکاس ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جس نے نہ صرف صنعت کاروں کو قریب لایا بلکہ عوام کو بھی یہ پیغام دیا کہ زیورات کی چمک صرف بازاروں تک محدود نہیں بلکہ یہ دوستی اور تعاون کی چمک میں بھی ڈھل سکتی ہے۔
