حالیہ رپورٹس کے مطابق، اوپن اے آئی (OpenAI) نے اپنی مستقبل کی مالی حکمت عملی کے بارے میں اشارہ دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں کمپنی اپنے تجارتی شراکت داروں، خصوصاً مائیکروسافٹ کے ساتھ ہونے والے منافع کی شراکت داری کو نمایاں حد تک کم کرے گی۔
اس وقت تقریباً 20 فیصد آمدنی کا حصہ مائیکروسافٹ کو دیا جا رہا ہے، مگر کمپنی کی منصوبہ بندی ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک یہ شرح گھٹ کر صرف 8 فیصد تک محدود رہ جائے۔ اس بڑی تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ اوپن اے آئی کے پاس اپنے پاس رکھنے کے لیے 50 ارب ڈالر سے زیادہ کی اضافی آمدنی بچے گی۔ البتہ اس بات کی وضاحت رپورٹ میں نہیں کی گئی کہ یہ حساب سالانہ بنیاد پر ہے یا مجموعی طور پر۔
اسی دوران، دونوں اداروں کے درمیان ایک اور اہم مسئلہ بھی زیر بحث ہے اور وہ ہے سرورز کے کرایے کا۔ رپورٹس کے مطابق، مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ سروسز کے استعمال پر اوپن اے آئی کو کتنی ادائیگی کرنا ہوگی، اس پر بات چیت جاری ہے۔ اس حوالے سے براہِ راست تبصرے کے لیے جب خبر رساں ادارے نے رابطہ کیا تو دونوں کمپنیوں کی طرف سے فوری جواب نہیں دیا گیا۔
ایک اور قابلِ ذکر پیش رفت یہ ہے کہ مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی نے جمعرات کے روز ایک غیر پابند معاہدے (non-binding deal) پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اوپن اے آئی کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ اپنی ساخت کو ازسرنو ترتیب دے کر ایک مکمل منافع بخش کمپنی میں تبدیل ہوسکے۔
اس کے ساتھ ساتھ اوپن اے آئی کی غیر منافع بخش شاخ بھی اس ڈھانچے کا حصہ رہے گی۔ کمپنی کی جاری کردہ ایک یادداشت کے مطابق، موجودہ شرائط کے تحت غیر منافع بخش ادارے کو سو ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم حاصل ہوگی، جو کہ 500 ارب ڈالر کی اس ممکنہ مارکیٹ ویلیو کا تقریباً 20 فیصد ہے جس کی تلاش اوپن اے آئی نجی سرمایہ کاروں سے کر رہی ہے۔
یہ مالی بندوبست اوپن اے آئی کے غیر منافع بخش ونگ کو دنیا کے سب سے زیادہ وسائل رکھنے والے اداروں میں شامل کر دے گا۔ کمپنی کے نان پرافٹ بورڈ کے چیئرمین بریٹ ٹیلر کے مطابق، یہ سرمایہ غیر معمولی سطح پر ریسرچ، ترقی اور مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت میں مزید وسعت دینے کے لیے استعمال ہوگا۔
