دنیا کے سب سے مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی ملکیت کے حوالے سے امریکا اور چین کے درمیان ایک اہم اور تاریخی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اسپین میں ہونے والے تجارتی مذاکرات کے دوران اس معاہدے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے مطابق ٹک ٹاک کی ملکیت چینی کمپنی بائٹ ڈانس سے کسی امریکی کمپنی کو منتقل کی جائے گی، جو کہ ایک پیچیدہ اور حساس تجارتی معاہدہ ہے۔
اس فریم ورک معاہدے کے بعد امریکا اور چین کے اعلیٰ قیادت کے درمیان جمعہ کو ایک براہ راست بات چیت متوقع ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ اس معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔ اس ملاقات میں ان دونوں طاقتور ممالک کے تجارتی تعلقات میں ایک نیا باب کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس معاہدے کا مقصد امریکی قومی سلامتی کے خدشات کو دور کرنا اور چینی کمپنی بائٹ ڈانس کے اثرات سے ٹک ٹاک کو آزاد کرنا ہے۔ امریکی حکام نے بار بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ بائٹ ڈانس کے چین سے تعلقات اور چینی حکومت کے قوانین کی وجہ سے امریکی صارفین کا ڈیٹا چین تک پہنچنے کا خطرہ موجود ہے۔ اس خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں ممالک نے ایک فریم ورک تیار کیا ہے جس میں ٹک ٹاک کی ملکیت کو کسی امریکی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
چینی تجارتی نمائندہ لی چنگ گانگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے ایک ’بنیادی فریم ورک اتفاق‘ حاصل کیا ہے، جس سے ٹک ٹاک کے تنازعے کو باہمی تعاون سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔
اس معاہدے کے دوران ایک اہم مسئلہ ٹک ٹاک کے الگورتھم اور اس کی دانشورانہ املاک کے حقوق تھا، جس پر امریکا اور چین کے درمیان شدید اختلافات موجود تھے۔ اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ٹک ٹاک کے الگورتھم اور اس کے دانشورانہ املاک کے حقوق کی ملکیت کی تقسیم شفاف طریقے سے کی جائے گی۔
اس کے علاوہ، میڈرڈ مذاکرات میں مصنوعی کیمیکلز (فینٹانل) اور منی لانڈرنگ جیسے عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی جرائم کے حوالے سے ’غیر معمولی ہم آہنگی‘ دکھائی دی۔
چین کے نمائندہ تجارت لی چنگ گانگ نے کہا کہ چین ٹیکنالوجی اور تجارت کو ’سیاسی رنگ آمیزی‘ سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے اور امریکا کو چینی کمپنیوں پر یکطرفہ پابندیوں سے گریز کرنا چاہیے۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کا امکان ابھی تک واضح نہیں ہے، مگر ماہرین کا خیال ہے کہ اکتوبر کے آخر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی آسیان پیسفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کانفرنس اس ملاقات کے لیے بہترین موقع ہو سکتی ہے۔ اس ملاقات کے ذریعے دونوں ممالک اپنے تجارتی تعلقات میں مزید پیشرفت کر سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ فریم ورک معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مکمل تجارتی معاہدے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ فریقین اگلے مرحلے میں جزوی نتائج پر اکتفا کر سکتے ہیں، جیسے چین کی جانب سے امریکی سویابین کی خریداری میں اضافہ یا امریکا کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی ایکسپورٹ پابندیوں میں نرمی۔
