چین کی معیشت حالیہ برسوں میں مختلف دباؤ کا شکار رہی ہے، کبھی تجارتی جنگوں، کبھی توانائی کے اخراجات اور کبھی جائیداد کے بحران کی وجہ سے۔ تاہم اب جو نئی تصویر ابھر رہی ہے وہ یہ ہے کہ سیاحت کا شعبہ چین کی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر سامنے آ رہا ہے۔ بلومبرگ انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹ کے مطابق صرف سال 2025 میں ہی چین اس شعبے سے 42 ارب ڈالر تک کی آمدنی حاصل کر سکتا ہے، جو اس وقت ایک ایسی خوشخبری ہے جب صارفین کا رجحان ماضی کی طرح مصنوعات پر کم اور خدمات پر زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے عوام نے حکومت کی سبسڈی اسکیموں سے تھک ہار کر اب اپنی توجہ گھریلو سفر اور تفریح پر مرکوز کر لی ہے۔ بیرونِ ملک سفر پر پابندیوں اور اخراجات کے بڑھنے نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ یوں لاکھوں افراد اپنی چھٹیاں چین کے شہروں، تاریخی مقامات اور تفریحی مراکز میں گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف گھریلو سفر سے تقریباً 27 ارب ڈالر مقامی معیشت میں واپس آرہے ہیں جبکہ 15 ارب ڈالر ان غیر ملکی سیاحوں سے آ رہے ہیں جنہوں نے چین کے ویزا فری پروگرامز کا فائدہ اٹھایا۔ ان پروگرامز نے درجنوں ممالک کے لوگوں کے لیے چین کی سرزمین پر قدم رکھنا نہایت آسان بنا دیا ہے۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین کی مجموعی خوردہ فروخت میں کمی کی توقع ہے۔ اگرچہ وبا سے پہلے ہر سال ریٹیل سیلز میں دوہندسی ترقی دیکھنے کو ملتی تھی، مگر اب یہ شرح محض 4.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اگست میں کیے گئے تخمینے 4.6 فیصد سے کم ہے۔ اس کمی کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کی توقعات کے مقابلے میں تقریباً 254 ارب یوآن (یعنی 36 ارب ڈالر کے قریب) کم آمدنی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ "سبسڈی فٹیگ” ہے، یعنی حکومت کی طرف سے دی جانے والی وقتی رعایتیں صارفین کو وقتی طور پر تو خریداری پر مائل کرتی ہیں، مگر یہ رجحان زیادہ دیر قائم نہیں رہتا اور لوگ ایک طرح کی تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف تجارتی اور جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں، امریکی ٹیرف کا دباؤ، اور جائیداد کے شعبے کی سست رفتاری بھی چین کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ اسی لیے حکومت نے اب اپنی توجہ مصنوعات سے زیادہ خدمات پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں حکام نے ایک سالہ پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شہری رعایتی شرح سود پر قرضے حاصل کر سکتے ہیں تاکہ وہ نہ صرف سامان خرید سکیں بلکہ سیاحت، تعلیم، اور بزرگوں کی دیکھ بھال جیسی خدمات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ اقدامات پہلی بار نہیں کیے جا رہے۔ چند ہفتے قبل ہی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پری اسکول کے آخری سال کے بچوں کے لیے فیس معاف کی جائے گی، جب کہ بچوں کی نگہداشت کے لیے سبسڈی بھی دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنشن کی ادائیگیوں میں اضافہ، عوامی صحت پر مزید اخراجات، اور معذور بزرگوں کے لیے سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے۔ لیکن بلومبرگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اخراجات مجموعی طور پر 600 ارب یوآن سے زیادہ نہیں ہوں گے، جو کہ چین کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.4 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت صحیح سمت میں اقدامات کر رہی ہے، لیکن ابھی یہ بہت محدود اور ابتدائی سطح کے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاحت کا شعبہ چین کے لیے ایک ایسا موقع فراہم کر رہا ہے جس سے نہ صرف فوری طور پر کھپت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ مستقبل میں دیرپا ترقی کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ مقامی کمپنیاں جیسے Trip.com اور Xiaomi کو اس سے براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے کیونکہ صارفین اب زیادہ مہنگی مگر معیار رکھنے والی مقامی مصنوعات اور خدمات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی طرح کھیلوں کے برانڈز جیسے Anta اور گھریلو سامان بنانے والے ادارے جیسے Midea بھی اس بدلتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر حکومت نے پالیسیوں میں مزید لچک اور وسعت پیدا نہ کی تو یہ موقع بھی وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ توانائی کی قیمتیں، خاص طور پر قدرتی گیس، امریکہ کے مقابلے میں اب بھی کئی گنا زیادہ ہیں، اور 2030 تک یورپ ہی نہیں بلکہ ایشیائی خطے میں بھی بجلی کی طلب میں اضافہ مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔
