امریکہ اور چین کے درمیان ٹِک ٹاک (TikTok) کے مستقبل پر بات چیت ایک اہم سنگ میل کی جانب پہنچ رہی ہے، اس کا اعلان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے میڈرِڈ میں کیا ہے۔ دو روزہ مذاکرات میں طے پایا ہے کہ ایک بنیادی فریم ورک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ٹِک ٹاک کی ملکیت چین کی کمپنی بائیٹ ڈانس سے امریکی کنٹرول میں جانے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ یہ معاہدہ ایک ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ اگر ملکیت منتقلی نہیں ہوئی تو ٹِک ٹاک پر عائد پابندی کا خطرہ برقرار تھا۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ بقیہ معاملات ابھی زیرِ غور ہیں اور تجارتی معاہدوں، ٹیکنالوجی کی پابندیوں اور محصولات (tariffs) سے متعلق امور پر بھی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ فریم ورک معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا؛ جمعہ کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر ژی جن پِنگ کے درمیان فون کال ممکن ہے جس میں معاہدے کی تفصیلات طے ہوں گی۔
یہ مذاکرات طویل عرصے سے جاری تھیں، اور یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ امریکہ اور چین اعلیٰ سطح پر ٹِک ٹاک، تجارتی پالیسیاں اور سرحدی ٹیکنالوجی کے مضامین پر بات کر رہے ہیں۔ گزشتہ ملاقاتوں میں اسٹاک ہوم، لندن اور جنیوا شامل ہیں، مگر کوئی جامع حل نہیں نکلا۔
اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ امریکی قانون نے بائیٹ ڈانس کو حکم دیا تھا کہ وہ ٹِک ٹاک کی امریکی شاخ بیچے ورنہ اسے امریکی مارکیٹ سے نکال دیا جائے گا۔ لیکن نئی حکمتِ عملی کے تحت، اگر مالکیت کی منتقلی ہو جائے، تو ٹِک ٹاک امریکا میں چلتی رہے گی، بشرطیکہ قومی حفاظت (national security) کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
ٹِک ٹاک کے الگوردم اور صارفین کے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق تحفظات کو بھی زیرِ غور لایا جائے گا۔ دونوں ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ڈیٹا کی حفاظت اور اثر و رسوخ (influence) کے خدشات کے پیش نظر کچھ اصول بنائے جائیں گے تاکہ ایپ کے استعمال سے قومی سلامتی پر ممکنہ خطرات کم ہوں۔
مگر ابھی بھی کچھ دشواریاں موجود ہیں۔ چین کی طرف سے متعدد مطالبات کیے گئے تھے، جن میں امریکی محصولات اور ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کنٹرول کی نرمی شامل ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور مطالبات کی شدت (aggressive asks) کی بنیاد پر مذاکرات پیچیدہ ہو رہے ہیں۔
تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک بڑا اقدام ہو گا اگر مالکیت کی منتقلی مکمل طور پر ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹِک ٹاک کی روزمرہ سرگرمی، الگوردم کی نگرانی، ڈیٹا کا تحفظ، اور صارفین کے حقوق کو ایک نئے قانونی اور تنظیمی ڈھانچے کے تحت چلا جائے۔ یوں نہ صرف امریکی صارفین کے لیے سہولت رہے گی، بلکہ یہ چین–امریکہ تعلقات میں کچھ کشیدگی کم کرنے کا باعث بھی بنے گا۔
سب کی نظریں جمعہ کے دن ٹرمپ اور ژی جن پِنگ کی گفتگو پر ہیں، کیونکہ اُس وقت یہ واضح ہو جائے گا کہ معاہدے کی حتمی شکل کیا ہوگی اور آیا وہ توقعات کے مطابق ہوگی یا نہیں۔ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر نتیجہ خیز ہوگا، مگر اس پیش رفت نے امید پیدا کی ہے کہ ٹِک ٹاک کی امریکی حدود میں موجودگی برقرار رہے گی اور تجارتی تنازعات کودرست سمت میں حل کی طرف گامزن کیا جائے گا۔
