یورپی یونین کے سابق مرکزی بینک کے سربراہ اور اٹلی کے وزیراعظم ماریو ڈراگی نے حال ہی میں ایک سخت وارننگ دی ہے کہ یورپی یونین دنیا کے دیگر بڑے طاقتور ممالک کے مقابلے میں اقتصادی ترقی اور مسابقت (competitiveness) میں تیزی سے پیچھے رہ رہی ہے، اور حکومتیں اس سنگینی کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ ڈراگی نے یہ بات برسلز میں یورپی کمیشن کے عہدیداروں کے سامنے بیان کی، جہاں انہوں نے کہا کہ EU نے بلند و بانگ منصوبے بنائے ہیں مگر عمل درآمد کی رفتار اتنی کم ہے کہ وقت ضائع ہو رہا ہے۔
ڈراگی نے بتایا کہ ایشو یہ ہے کہ نمو کا ماڈل “تیزی سے ماند پڑ رہا ہے” اور کمزوریاں بڑھ رہی ہیں، مگر سرمایہ کاری کی ضروری راہوں کا کوئی واضح نقشہ ابھی تک موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ویسا ہی کام کرتے رہیں جیسے پہلے کرتے رہے ہیں تو ہم خود کو پسِ پشت رہنے پر رضامند کر رہے ہیں۔ انہوں زور دیا کہ اب نئی رفتار، پیمانے اور شدت کی ضرورت ہے، اور یہ ممکن نہیں جب ممالک کے اقدامات منتشر ہوں۔
یہ پیچھے رہنا خاص کر تجارتی دباؤ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سامنے آ رہا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال AI کے بڑے بنیادی ماڈلز کی تخلیق میں تیزی دکھائی، چین نے بھی اس میں قابلِ موازنہ حرکت کی، مگر EU نے محض تین ماڈل تیار کیے۔ اس کے علاوہ، یورپی یونین چین کے ساتھ تجارتی خسارے کا سامنا کر رہی ہے، جو دسمبر 2024 سے تقریباً 20 فیصد بڑھ چکا ہے۔ امریکی ٹیریفس (معاشی محصولات/ٹیکس) نے بھی یورپی پیداوار کو پریشان کیا ہے۔
توانائی کے اخراجات بھی ایک بڑا رکاوٹ ہیں—مثلاً قدرتی گیس کی قیمتیں امریکہ کی نسبت تقریباً چار گنا زیادہ ہیں، جو ٹیکنالوجی پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ مزید یہ کہ، AI کی بڑھتی ہوئی طلب کی بنا پر بجلی کی ضرورت 2030 تک یورپ میں تقریباً 70 فیصد بڑھ جائے گی، لیکن اس اضافی بجلی کے اخراجات اور انفراسٹرکچر کے بوجھ کا بوجھ ابھی واضح نہیں کہ کس طرح اٹھایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، ڈراگی نے 2024 میں یورپی کمیشن کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی جس میں مجموعی طور پر 383 سفارشات شامل تھیں جن کا مقصد EU کو زیادہ مؤثر، خود مختار اور ٹیکنالوجی دوست معاشی بلاک بنانا تھا۔ لیکن ایک سال بعد بھی ان سفارشات کا صرف تقریباً 11.2 فیصد ہی عملی جامہ پہنایا گیا ہے، باقی سفارشات یا تو زیرِ بحث ہیں یا سیاسی یا انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے رہ گئی ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لَےِن نے خود اس کمی کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ سنگل مارکیٹ کو مکمل کرنے اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ضوابط بنانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو کی رفتار دیگر ممالک، خاص طور پر امریکہ کی نسبت، بہت کم ہے؛ مثال کے طور پر Q2 2025 میں امریکہ کی معیشت نے یورپی یونین کی معیشت سے تقریباً آٹھ گنا تیز نمو کی ہے۔
ڈراگی نے یہ بھی کہا کہ عارضی امدادی اقدامات مثلاً سبسڈیز دینے سے وقتی راحت ملتی ہے، مگر اس سے مستقل حل نہیں نکلتا۔ بنیادی اصلاحات (structural reforms) ضروری ہیں تاکہ پرائیویٹ سرمایہ کاری بڑھے اور عوامی فنڈنگ پر کم انحصار ہو۔
مزید یہ کہ ایک تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اگر EU نے تیزی نہ دکھائی تو مسابقتی کمی مزید گہری ہو جائے گی، خاص طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، AI اپنانے، ڈیٹا کے استعمال اور صنعتوں میں تبدیلی کے حوالے سے۔
یورپی یونین کو ضروری ہے کہ مارکیٹ اتحاد (single market harmonization)، سرمایہ منڈیوں کا اتحاد (capital markets union)، اور ضوابط کو آسان بنانے جیسے اقدامات کرے تاکہ کاروبار اور جدت کو فروغ ملے۔
یورپی یونین کا چیلنج صرف منصوبے بنانے کا نہیں بلکہ ان منصوبوں کو بروقت اور مکمل طریقے سے نافذ کرنے کا ہے۔ وقت کم ہے، اور عالمی مقابلہ تیز ہے۔ ڈراگی کا اشارہ ہے کہ اگر حکومتیں اب بھی سست روی اختیار کریں گی اور معمولی اقدامات کرتی رہیں، تو یورپ ممکن ہے کہ نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ عالمی اثر و رسوخ کے لحاظ سے بھی پیچھے رہ جائے۔
