امریکہ کی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ٹیسلا کی ماڈل وائی گاڑیوں کے بارے میں ایک ابتدائی جانچ کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ تحقیقات تقریباً ایک لاکھ چوہتر ہزار سے زائد گاڑیوں سے متعلق ہیں، جن کا ماڈل سال دو ہزار اکیس بتایا گیا ہے۔ اس جانچ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں الیکٹرانک دروازے کے ہینڈلز بعض اوقات اچانک کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مالک یا مسافر گاڑی کا دروازہ کھولنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے نے والدین اور مسافروں کے لیے خاصی پریشانی پیدا کی ہے کیونکہ کچھ واقعات میں ایسے بھی حالات سامنے آئے ہیں جہاں بچوں کو گاڑی کے اندر یا باہر لانے کے لیے دروازہ کھل ہی نہیں سکا۔
رپورٹس کے مطابق اس خرابی کی اصل وجہ گاڑی کی کم وولٹیج بیٹری ہے، جو دروازوں کے لاکنگ سسٹم کو مکمل طاقت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مالکان نے اس مسئلے سے پہلے کسی قسم کی وارننگ نہیں دیکھی اور نہ ہی گاڑی نے بیٹری کے کم وولٹیج کے حوالے سے کوئی الرٹ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب دروازے کا سسٹم اچانک بند ہو جاتا ہے تو مالک بے بس ہو جاتے ہیں۔ ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں والدین نے گاڑی کے شیشے توڑ کر بچوں کو باہر نکالا، اور کم از کم چار واقعات میں والدین کو اس سخت قدم پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ صورتحال حفاظتی نقطۂ نظر سے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ہنگامی حالات میں فوری رسائی نہ ملنے کی وجہ سے بڑے حادثات پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اگرچہ ٹیسلا گاڑیوں میں دستی طور پر دروازہ کھولنے کے لیے ایک میکانزم دیا گیا ہے، لیکن عام طور پر یہ طریقہ لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا یا یہ بچوں کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے افراد ایسی ہنگامی صورتحال میں مزید مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔
قومی ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے شروع کی گئی یہ preliminary evaluation ایک ابتدائی مرحلہ ہے، جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا یہ مسئلہ عوامی حفاظت کے لیے اتنا سنگین ہے کہ اس پر مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔ اگر ادارہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ یہ واقعی ایک سنگین حفاظتی خرابی ہے تو ممکن ہے کہ ٹیسلا کو بڑی تعداد میں اپنی گاڑیاں واپس بلانے یا ان میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔ فی الحال کمپنی نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا اور خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹیسلا اپنی گاڑیوں کے حفاظتی ڈیزائن پر سوالات کی زد میں آئی ہو۔ اس سے پہلے بھی کمپنی کو مختلف حصوں میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور مرمت کے اقدامات اٹھانے پڑے ہیں۔ لیکن اس بار مسئلہ براہ راست انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بچے گاڑی کے اندر موجود ہوں اور والدین دروازہ کھولنے میں ناکام رہ جائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ ٹیسلا کی ڈیزائن پالیسیوں پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے کیونکہ مکمل طور پر الیکٹرانک ہینڈلز پر انحصار کرنے سے ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سہولت فراہم کرتی ہے لیکن ہنگامی حالات کے لیے متبادل طریقوں کی آگاہی اور ان تک فوری رسائی بھی لازمی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ٹیسلا ہی نہیں بلکہ دیگر کار ساز کمپنیوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ حفاظت کے معاملات میں سہولت پر بھروسہ کرنے کے بجائے زیادہ متوازن ڈیزائن اختیار کیا جائے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ امریکہ کا ریگولیٹری ادارہ اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ مسئلہ بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اسے ٹھیک کرنا لازمی ہے تو ممکن ہے لاکھوں گاڑیوں کو واپس بلانے کا حکم جاری ہو۔ یہ نہ صرف ٹیسلا کے لیے مالی نقصان کا باعث ہوگا بلکہ کمپنی کی ساکھ پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ فی الحال مالکان اور صارفین کو یہی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ دستی ہینڈل کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ ہنگامی حالات میں انہیں کسی بڑے نقصان سے بچنے میں مدد مل سکے۔
ٹیسلا ماڈل وائی کے دروازوں کی یہ خرابی ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس نے گاڑیوں کی جدید ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنے کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس معاملے کا حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا، مگر فی الحال یہ واقعہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والے صارفین کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ حفاظتی پہلو ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
