ریاض میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب نے مشرقِ وسطیٰ کے صنعتی شعبے کے مستقبل کی ایک نئی تصویر پیش کی، جہاں اے کیما مڈل ایسٹ (ACHEMA Middle East) کے ایگزیکٹو لانچ ایونٹ نے یہ واضح کیا کہ سعودی عرب خطے کو عالمی سطح پر ایک انوکھا صنعتی مرکز بنانے کے لیے کس قدر پرعزم ہے۔
اس تقریب کو وزارتِ صنعت و معدنی وسائل کی ذیلی کمپنیوں اساس اور آئی کور کی سرپرستی حاصل رہی جبکہ اس کا انعقاد جرمن ادارے ڈی کیما (DECHEMA) اور میسے فرینکفرٹ (Messe Frankfurt) نے مشترکہ طور پر کیا۔
یہ تقریب دراصل اس بات کا اعلان تھی کہ اے کیما مڈل ایسٹ 2026 اکتوبر 2026 میں ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں شاندار انداز میں منعقد ہوگا، جہاں دنیا بھر سے 400 سے زائد نمائش کنندگان، صنعتی ماہرین اور سائنسی شخصیات شرکت کریں گے۔ اس موقع پر کئی معاہدوں اور ایم او یوز پر بھی دستخط ہوئے تاکہ عالمی کمپنیوں اور سعودی اداروں کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے دوران مختلف موضوعات پر توجہ دی گئی، جن میں کیمیائی صنعت، دواسازی اور بائیو ٹیکنالوجی، گرین انرجی، ہائیڈروجن، جدید ڈیجیٹل پلانٹس، اور اسمارٹ پروڈکشن لائنز شامل ہیں۔
اس موقع پر یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت صنعتوں کو مقامی سطح پر ترقی دینے اور عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی معیشت میں شریک کرنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔
ایونٹ کا مرکزی نعرہ "پروسس انوویشن میں تیزی” تھا، جس کے تحت دنیا بھر کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا تاکہ وہ اپنی مہارت، نئی ٹیکنالوجیز اور سرمایہ کاری کے مواقع سعودی عرب کے ساتھ شیئر کریں۔ تقریب میں حکومتی عہدیداران، غیر ملکی ماہرین اور بڑی صنعتی کمپنیوں کے سی ای اوز شریک ہوئے۔
ڈی کیما کے سی ای او ڈاکٹر بیورن ماتھیس نے کہا کہ ریاض میں اے کیما مڈل ایسٹ کا انعقاد صرف ایک علاقائی توسیع نہیں بلکہ ایک "اسٹریٹیجک ارتقا” ہے، کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں عالمی سطح کی سائنس اور انجینئرنگ سعودی عرب کے صنعتی عزائم کے ساتھ جُڑ کر نئی راہیں ہموار کریں گی۔
اسی طرح میسے فرینکفرٹ سعودی عرب کے مینیجنگ ڈائریکٹر عزان محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب اس وقت ایک ایسی صنعتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جو کئی نسلوں میں صرف ایک بار آتی ہے۔ ان کے مطابق اے کیما مڈل ایسٹ اس تبدیلی کی قیادت کرے گا اور یہ ریجن کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہوگا جہاں پالیسی ساز، سرمایہ کار اور صنعت کار ایک ساتھ بیٹھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔
ایونٹ کے دوران شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا دروازہ ہے جو یورپی ٹیکنالوجی اور مقامی صنعتی ضروریات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ پلیٹ فارم سعودی عرب کے لیے سپلائی چینز کو مقامی بنانے، ہائیڈروجن جیسے نئے ماخذِ توانائی کو اپنانے، اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ذریعہ ہوگا۔
پروگرام میں کئی اہم نکات شامل تھے، مثلاً:
ویژن 2030 پر ایک طاقتور کلیدی خطاب جس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کس طرح صنعتوں کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دے رہا ہے۔
عالمی اور مقامی ماہرین کے پینل ڈسکشن، جن میں اس سوال کا جواب تلاش کیا گیا کہ "عالمی کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ میں کامیاب ہونے کے لیے کیا چاہتی ہیں؟”
خصوصی سیشنز جن میں کیمیکلز، فارما، انرجی اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
اختتامی گول میز مکالمہ جس میں پالیسی، مارکیٹ کی ضروریات اور اختراعی حل کو جوڑنے پر بات کی گئی۔
یہ تقریب آدھے دن تک جاری رہی اور اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرقِ وسطیٰ صنعتی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، اور اے کیما مڈل ایسٹ نہ صرف دنیا کی توجہ سعودی عرب پر مرکوز کرے گا بلکہ سلطنت کی صنعتی امنگوں کو عالمی منظرنامے پر بھی اجاگر کرے گا۔
اس ایگزیکٹو لانچ نے ایک نئی امید پیدا کی ہے کہ آئندہ برس ریاض میں منعقد ہونے والا اے کیما مڈل ایسٹ 2026 صنعتی شعبے کے لیے وہی مقام حاصل کرے گا جو فرینکفرٹ میں ہونے والا عالمی اے کیما ایونٹ پچھلی ایک صدی سے رکھتا ہے۔
