امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کا دورہ کیا جو کئی حوالوں سے غیر معمولی اور یادگار ثابت ہوا۔ اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں اور اعلانات نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا بلکہ اسے ایک ایسے رشتے میں ڈھال دیا جسے دونوں رہنماؤں نے "ناقابلِ شکست” قرار دیا۔
وزیرِاعظم کیر اسٹارمر اور صدر ٹرمپ نے چیقرز (Chequers) کے دیہی رہائشی مقام پر ایک مشترکہ اجلاس کیا، جہاں اربوں پاؤنڈ کے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر تقریباً 250 ارب پاؤنڈ مالیت کے مختلف پیکجز منظر عام پر آئے، جن میں سے 150 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری براہِ راست امریکہ کی طرف سے برطانیہ میں کی جائے گی۔ یہ سرمایہ کاری زیادہ تر ٹیکنالوجی، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں استعمال ہوگی۔
اس ملاقات میں برطانوی وزیرِاعظم نے کاروباری شخصیات کا شکریہ ادا کیا جو اس تقریب میں شریک ہوئیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام جیسے مائیکروسافٹ، این ویڈیا (Nvidia) اور اوپن اے آئی نے بھی برطانیہ میں سرمایہ کاری کے پیکجز کا اعلان کیا۔ ان کمپنیوں کے فیصلے کو مستقبل کے لیے برطانیہ کی معیشت کو سہارا دینے اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی بھی قیمت پر ٹوٹنے والے نہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ اور برطانیہ کے درمیان جو رشتہ ہے وہ "قیمت سے بالاتر اور ناقابلِ ٹوٹ” ہے۔ وزیرِاعظم اسٹارمر نے بھی اس موقع پر کہا کہ یہ تعلقات نہ صرف موجودہ وقت میں لوگوں کے لیے روزگار اور سہولتوں کا سبب بنیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہوں گے۔
یہ دورہ صرف معیشت اور کاروبار تک محدود نہیں تھا۔ صدر ٹرمپ کو شاہ چارلس کے ساتھ ونڈسر محل میں ہونے والے شاہانہ عشائیے میں بھی مدعو کیا گیا، جسے ٹرمپ نے اپنی زندگی کا "شاندار ترین لمحہ” قرار دیا۔ اس عشائیے میں انہوں نے برطانیہ کی تاریخ اور اس کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے قانون، آزادی اور انسانی حقوق کی وہ بنیاد رکھی جس نے دنیا کو روشنی دکھائی۔
تاہم، اس دورے کے دوران کچھ حساس پہلو بھی سامنے آئے۔ میڈیا کے سوالات میں امریکی صدر اور برطانوی وزیرِاعظم سے جیفری ایپسٹین اسکینڈل کے حوالے سے بھی پوچھا جا سکتا تھا، جو دونوں کے لیے ایک نازک موضوع ہے۔
چند روز قبل ہی اسٹارمر کو اپنے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن کو امریکی سفارتکار کے عہدے سے ہٹانا پڑا تھا کیونکہ ان کے ایپسٹین کے ساتھ روابط سامنے آئے تھے۔ ٹرمپ کی ذات بھی اس معاملے میں میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
برطانیہ کے اندرونی سیاسی حالات اس وقت اسٹارمر کے لیے کچھ مشکلات پیدا کر رہے ہیں، اس لیے وہ اس دورے کو ایک مثبت بین الاقوامی موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ برطانوی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسٹارمر چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ ان کی حکومت کے لیے ایک "کامیاب بین الاقوامی کہانی” تیار ہو سکے۔
دوسری طرف، صدر ٹرمپ کے لیے بھی یہ دورہ اہم تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ اور خاص طور پر برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو اس سطح پر لایا جائے جس سے امریکہ کو بھی سیاسی اور معاشی فائدہ پہنچے۔ اس تناظر میں انہوں نے روس کے خلاف یورپ کے رویے کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جب تک یورپ روسی تیل کی خریداری بند نہیں کرتا، اس وقت تک ماسکو پر مزید دباؤ ڈالنا بے معنی ہے۔
فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر بھی دونوں رہنماؤں کی گفتگو متوقع رہی۔ صدر ٹرمپ نے کچھ یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو "حماس کے لیے انعام” قرار دیا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی کہا کہ اگر اسٹارمر اس معاملے پر اپنا الگ مؤقف رکھتے ہیں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
ان تمام سیاسی اور سفارتی معاملات کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کا یہ دورہ عوامی دلچسپی کا بھی مرکز رہا۔ انہوں نے ایک امریکی ٹی وی میزبان جِمی کِمل کی معطلی کا خیر مقدم کیا، جس نے ایک قدامت پسند کارکن کے قتل پر مبینہ طور پر نامناسب ریمارکس دیے تھے۔ یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ اپنے سیاسی اور ذاتی معاملات میں میڈیا پر کتنا دباؤ ڈالتے ہیں۔
یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان "خصوصی تعلق” صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اسے مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی معیشت کے لیے یہ سرمایہ کاری آنے والے برسوں میں بے پناہ امکانات کھولے گی، جبکہ امریکہ کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہوگا جس سے وہ اپنی عالمی اثر و رسوخ کو مزید بڑھا سکے گا۔
