یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا باب کھلنے والا ہے۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال کے پہلے نصف میں یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم کو دوبارہ فعال کرے گی۔ اس فیصلے کو دونوں خطوں کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کے لیے ایک محرک سمجھا جارہا ہے۔
اس پیش رفت کا باضابطہ اعلان پاکستان میں یورپی یونین کے نئے تعینات کردہ سفیر ریموندس کاروبلس نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران کیا۔ یہ ملاقات اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ میں ہوئی جہاں باہمی دلچسپی کے کئی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ سفیر نے گفتگو کے آغاز میں کہا کہ وہ پاکستان آکر خوش ہیں اور اس ملک کو نہ صرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم قرار دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا۔
سفیر نے بتایا کہ یورپی یونین کی پالیسیوں کے تحت پاکستان کو ملنے والا جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے نہایت معاون رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کُل برآمدات کا تقریباً 30 فیصد یورپی ممالک کی منڈیوں میں جاتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی یونین پاکستان کے لیے سب سے بڑی تجارتی منڈیوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت نے نہ صرف پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو تقویت دی بلکہ دیگر شعبوں میں بھی ترقی کے مواقع پیدا کیے۔
مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک پاکستان میں مختلف منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان منصوبوں میں کراچی میں پانی اور صفائی کے منصوبے شامل ہیں۔ آئندہ مرحلے میں یہ بینک ریلوے کے ڈھانچے کی بہتری، توانائی کے منصوبے اور دیہی رہائشی سہولتوں میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ منصوبے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک اہم کردار ادا کریں گے۔
سفیر کاروبلس نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یورپی یونین کے تقریباً 300 کاروباری ادارے پاکستان میں پہلے ہی مختلف شعبوں میں فعال ہیں۔
انہوں نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ ان اداروں کی تعداد اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہونا چاہیے تاکہ دونوں خطوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت ملے۔ ان کے مطابق، اس سے نہ صرف یورپی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
ملاقات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی تفصیلی گفتگو کی اور یورپی یونین کے سفیر کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم کی بحالی اور اس کے متحرک کردار کو حکومت پاکستان بھرپور سپورٹ کرے گی۔
انہوں نے یورپی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو قریب سے دیکھیں اور خاص طور پر تیل و گیس، معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور نجکاری کے عمل میں اپنی دلچسپی ظاہر کریں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں مالیاتی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے سفیر کو اس بات سے آگاہ کیا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی حالیہ دنوں میں بہتری دکھائی ہے، جو دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش ملک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان حکومت اصلاحات اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو درست سمت میں لے جارہی ہے۔ ایسے میں یورپی کمپنیوں کی شمولیت سے نہ صرف سرمایہ آئے گا بلکہ ٹیکنالوجی اور مہارت بھی منتقل ہوگی۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو محض تجارت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور انسانی وسائل کی ترقی تک پھیلایا جانا چاہیے۔
سفیر کاروبلس نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے اپنی ٹیم کی فراہم کردہ رپورٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ خوش ہیں کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں اقتصادی استحکام کی طرف مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت یورپی یونین کے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یورپی یونین پاکستان کی ترقی اور معاشی بحالی کے عمل میں اپنا تعاون جاری رکھے گی۔
اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے صرف تجارتی شعبہ ہی نہیں بلکہ توانائی، زراعت، بنیادی ڈھانچہ، اور دیہی ترقی جیسے شعبے بھی اہم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک بڑی منڈی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
یہ ملاقات اس بات کا مظہر رہی کہ یورپی یونین اور پاکستان دونوں ہی مستقبل میں ایک متوازن اور مضبوط شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ بزنس فورم کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جو آئندہ برس پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی سطح پر لے جائے گا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہوگا بلکہ یورپی سرمایہ کاروں کے لیے بھی منافع بخش موقع فراہم کرے گا۔
