پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ہفتے کا اختتام ایک ایسے تجارتی دن کے ساتھ کیا جو اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ جمعہ کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس کئی مرتبہ اوپر نیچے گیا اور آخرکار 158 ہزار کی نفسیاتی حد سے ذرا اوپر بند ہوا، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
پورے دن کے کاروبار میں سرمایہ کاروں کے جذبات میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ صبح کے وقت حصص کی خرید و فروخت زیادہ پرجوش نظر نہیں آئی اور کاروبار ایک محدود دائرے میں گھومتا رہا۔ لیکن جیسے ہی دن کے دوسرے حصے میں لین دین میں تیزی آئی تو انڈیکس اچانک 159,337 پوائنٹس تک جا پہنچا جو دن کا بلند ترین اضافہ تھا۔
تاہم بعد ازاں کچھ بڑے حصص میں منافع لینے کے رجحان کے باعث مارکیٹ دباؤ میں آئی اور ایک وقت میں یہ 157,522 پوائنٹس تک گر گیا۔ آخرکار دن کے اختتام پر انڈیکس 158,037 پوائنٹس پر بند ہوا، جو پچھلے روز کے مقابلے میں 84 پوائنٹس یعنی 0.05 فیصد زیادہ تھا۔
ہفتے بھر کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کے ایس ای 100 انڈیکس نے شاندار تیزی دکھائی۔ ہفتے کے آغاز پر انڈیکس 154,612 پوائنٹس پر تھا۔ چند دنوں کے دوران یہ ذرا سا نیچے آکر 154,486 تک بھی پہنچا لیکن پھر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت رجحانات نے اسے اوپر کی طرف دھکیلا۔
نتیجتاً انڈیکس نے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے 159,337 پوائنٹس کی بلند ترین انٹرا ڈے سطح کو چھوا اور ہفتے کے اختتام پر 158,037 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس طرح صرف ایک ہفتے میں انڈیکس میں 3,598 پوائنٹس یعنی 2.33 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروباری حجم بھی غیر معمولی رہا۔ دن بھر میں دو ارب سے زائد حصص کے سودے ہوئے جن کی مالیت تقریباً 69.2 ارب روپے رہی۔ سب سے زیادہ لین دین سینرجیکو میں ہوا جس کے حصص کی تعداد 170.2 ملین رہی اور یوں اس نے دن کا نمایاں کاروباری حجم اپنے نام کیا۔
شعبہ جاتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کچھ بڑی کمپنیوں نے انڈیکس کو سہارا دیا۔ حبکو، او جی ڈی سی، بینک آف پنجاب، سسٹمز لمیٹڈ اور پی ایس او نے مجموعی طور پر 663 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری طرف یو بی ایل، اینگرو ہولڈنگز، ایچ بی ایل، فوجی فرٹیلائزر اور ماری پٹرولیم جیسے بڑے اداروں میں منافع حاصل کرنے کے رجحان نے مارکیٹ کو دبایا اور انڈیکس کو 476 پوائنٹس تک نیچے کھینچ دیا۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ اب 155,000 سے 158,000 پوائنٹس کی طویل المدتی رینج سے اوپر نکل چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بریک آؤٹ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں نئے ریکارڈ قائم ہونے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔
تاہم ایک اہم معاشی پہلو سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنا رہا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 245 ملین ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ خسارہ محض 82 ملین ڈالر تھا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں یہ خسارہ 624 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 430 ملین ڈالر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کا یہ دباؤ آئندہ مہینوں میں مارکیٹ کے مزاج کو متاثر کرسکتا ہے۔
